غزل
از قلم: مبراء عبدالقیوم فرحت
چراغ بن کے جلوں تو دھواں بھی میرا ہے
ہوا مخالف سہی، یہ آسماں بھی میرا ہے
میں اپنے زخم کو سینے سے یوں لگائے ہوں
یہ درد میرا سہی مگر حوصلہ بھی میرا ہے
کوئی چھین لے مرے حصے کی خوشی بھی
مگر رب پر یقین کا اک سلسلہ بھی میرا ہے
میں ڈوب جاؤں تو دریا کو کیا دوش دوں
مرے نصیب کا لکھا ہر فیصلہ بھی میرا ہے
جو میرے نام پہ رکھتے ہیں انگلیاں اکثر
انہیں خبر نہیں شاید اک آئینہ بھی میرا ہے
میں اپنی راہ میں کانٹے سمیٹ لیتی ہوں
سفر کٹھن ہی سہی مگر حوصلہ بھی میرا ہے
کبھی شکست نے آ کر گلے لگایا ہے بھی ہے تو
اسی لیے ہی تو میرا، ہر حوصلہ بھی میرا ہے
کسی کے سائے میں جینا مجھے گوارا کب ہے
مرے وجود کا اک اپنا وقار ہے وہ بھی میرا ہے
جو روشنی کی تمنا میں خود کو جلاتا ہے ہمیشہ
اسی کے ہاتھ میں دیکھو، آخر دیا بھی میرا ہے
مجھے اپنے قلم پر ہمیشہ ناز رہے گا فرحت
یہی شناخت مری ہے، اور مرتبہ بھی میرا ہے
مجھے اپنے قلم پر ہمیشہ ناز رہے گا فرحت
