Baaghi TV

خاموش وراثت،تحریر: زینب جہانزیب

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وراثت صرف وہ ہوتی ہے جو کاغذوں میں لکھی جاتی ہے؛ زمین، جائیداد، خاندانی نام یا روایات۔ مگر ایک ایسی وراثت بھی ہے جو نہ دیکھی جا سکتی ہے، نہ چھوئی جا سکتی ہے، پھر بھی نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وراثت ہے خاموش زخموں، ادھورے دکھوں اور ان احساسات کی، جنہیں کبھی جینے یا سمجھنے کی اجازت نہیں ملی۔
گھر صرف اینٹوں اور دیواروں سے نہیں بنتا، بلکہ لہجوں، رویوں، خاموشیوں اور جذبات سے تشکیل پاتا ہے۔ بچہ انہی چیزوں کے درمیان اپنی شخصیت بناتا ہے۔ اگر اس کے اردگرد خوف ہو تو وہ خوف سیکھتا ہے، اگر مسلسل تنقید ہو تو وہ خود کو ناکافی سمجھنے لگتا ہے، اور اگر جذبات کے اظہار کو کمزوری کہا جائے تو وہ اپنے ہی احساسات سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

نفسیات اس عمل کو Intergenerational Trauma یعنی بین النسلی صدمہ کہتی ہے۔ یہ وہ خاموش منتقلی ہے جس میں ایک نسل کے حل نہ ہونے والے نفسیاتی زخم اگلی نسل کے ذہن، شخصیت اور تعلقات میں سرایت کر جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض اوقات نئی نسل نے وہ حادثات کبھی خود نہیں دیکھے ہوتے، مگر ان کے اثرات پھر بھی اس کی زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچے صرف والدین کے الفاظ نہیں سنتے، بلکہ ان کے اعصابی نظام کے ردِعمل سے بھی سیکھتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل خوف، بے یقینی، غصہ یا جذباتی دوری میں پلنے والا بچہ دنیا کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے، اور یہ احساس اس کی پوری شخصیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔

ڈاکٹر ریچل یہودا (Rachel Yehuda) اور دیگر محققین کی تحقیقات نے یہ اشارہ دیا ہے کہ شدید نفسیاتی صدمات انسان کے Stress Response System پر دیرپا اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جدید نفسیات صرف زخموں کو سمجھنے کی بات نہیں کرتی، بلکہ ان کے علاج کو آنے والی نسلوں کی ذہنی صحت سے بھی جوڑتی ہے۔

شاید اسی لیے بعض گھروں میں محبت تو موجود ہوتی ہے، مگر اس کا اظہار نہیں۔ لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے جذبات تک نہیں پہنچ پاتے۔ بچے ہر سہولت پا لیتے ہیں، مگر جذباتی تحفظ سے محروم رہ جاتے ہیں، اور پھر وہی محرومی ان کے تعلقات، خود اعتمادی اور زندگی کے فیصلوں میں خاموشی سے بولتی رہتی ہے۔

ہم اکثر اپنے والدین کے رویوں پر سوال اٹھاتے ہیں، مگر شاید کسی نے ان سے بھی کبھی یہ نہیں پوچھا تھا کہ وہ خود کس درد سے گزرے تھے۔ ممکن ہے ان کے زخم بھی کسی اور نسل کی امانت ہوں۔ اس حقیقت کو سمجھنا کسی کو قصوروار ٹھہرانا نہیں، بلکہ اس سلسلے کو پہچاننا ہے جو برسوں سے چلتا آ رہا ہے۔لیکن ہر نسل کے پاس ایک انتخاب ضرور ہوتا ہے۔ یا تو وہ ماضی کے زخموں کو وراثت بنا دیتی ہے، یا ان کا علاج کر کے ایک نئی روایت قائم کرتی ہے۔ ہماری نسل شاید پہلی نسل بن سکتی ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ ہمارے بچوں کو خوف، خاموشی اور جذباتی محرومی ورثے میں نہیں ملے گی۔ ہم انہیں یہ سکھائیں گے کہ احساسات کو دبانا نہیں، سمجھنا اور بیان کرنا بھی طاقت کی علامت ہے۔
کیونکہ اصل وراثت صرف وہ نہیں جو ہم چھوڑ کر جاتے ہیں، بلکہ وہ بھی ہے جو ہم اپنے بچوں کے دل و دماغ میں بسا جاتے ہیں۔
اور آخر میں صرف ایک سوال
کیا ہم اپنی آنے والی نسل کو اپنی محبت ورثے میں دے رہے ہیں، یا وہ زخم جن کا علاج انہیں اپنی پوری زندگی کرنا پڑے گا؟

More posts