Baaghi TV

ایران سے فرار خاتون کو امریکا نے افریقی ملک ڈی پورٹ کردیا

واشنگٹن: ایران سے جان بچا کر امریکا پہنچنے والی ایک نوجوان ایرانی سیاسی کارکن کو امریکی حکومت نے ایسے افریقی ملک میں ڈی پورٹ کردیا جہاں وہ اس سے قبل کبھی نہیں گئی تھی اور جسے خود امریکی محکمہ خارجہ خطرناک قرار دیتا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق نیکا فرضی نام سے شناخت ظاہر کرنے والی ایرانی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ کئی برس تک ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کرتی رہی، اس دوران اس کے کئی دوست مارے گئے جبکہ بعض اب بھی جیلوں میں ہیں۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر اسے واپس ایران بھیجا گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔نیکا امریکا میں داخل ہونے کے بعد امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی حراست میں کئی ماہ رہی، تاہم بعد ازاں اسے کیلیفورنیا میں آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت مل گئی۔ جون میں اسے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ایک معمول کی ملاقات کے لیے طلب کیا گیا، لیکن وہاں پہنچنے پر اسے گرفتار کرلیا گیا۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس سے کئی ہفتے قبل ہی اسے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ 11 جون کو نیکا سمیت 18 تارکین وطن کو طیارے میں سوار کرکے وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بنگوئی پہنچا دیا گیا۔ نیکا کے مطابق اسے پرواز میں سوار ہونے تک معلوم نہیں تھا کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے۔

نیکا اور اس کے ساتھ ڈی پورٹ کیے گئے بعض دیگر تارکین وطن کو امریکی عدالت سے ایسے حفاظتی احکامات بھی حاصل تھے جن کا مقصد انہیں ایسے ممالک واپس بھیجے جانے سے روکنا تھا جہاں انہیں ظلم، تشدد یا موت کا خطرہ ہو۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی کے تحت ایسے تارکین وطن کو تیسرے ممالک منتقل کرنے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے سی این این کو بتایا کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو قانونی کارروائی کا مکمل موقع دیا گیا اور ان کے خلاف حتمی ملک بدری کے احکامات موجود تھے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدے امریکی قومی سلامتی اور امیگریشن ترجیحات کے لیے ضروری ہیں۔

وسطی افریقی جمہوریہ پہنچنے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے دوران نیکا کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں رہتی ہے اور خوف کے باعث گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہے۔اس کے مطابق جب وہ ضروری اشیا خریدنے کے لیے باہر نکلتی ہے تو مقامی پولیس اہلکار اسے روک کر مبینہ طور پر رشوت طلب کرتے اور رقم نہ دینے کی صورت میں گرفتاری کی دھمکی دیتے ہیں۔ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔نیکا کو ملیریا بھی ہوگیا، جس کے باعث اسے مقامی اسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ خود وسطی افریقی جمہوریہ کے سفر سے شہریوں کو خبردار کرتا ہے اور وہاں جرائم، اغوا، بیماریوں اور دہشت گردی کے خطرات کا حوالہ دیتا ہے۔سی این این کے مطابق یہ سوال بھی موجود ہے کہ وسطی افریقی جمہوریہ نے امریکا سے تارکین وطن قبول کرنے پر رضامندی کیوں ظاہر کی۔ اس معاہدے کی تفصیلات اب تک منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا نے رواں سال وسطی افریقی جمہوریہ میں اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی سرگرمیوں کے لیے 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کیے، جبکہ ملک کے ہیومینیٹیرین فنڈ کے لیے مزید 5 کروڑ ڈالر دینے کا بھی وعدہ کیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ نے اشارہ دیا ہے کہ بیرونی امداد ایسے ممالک کی معاونت کے لیے استعمال کی جائے گی جو امریکا کی امیگریشن ترجیحات میں تعاون کریں۔

نیکا اور اس کے ساتھ آنے والے دیگر تارکین وطن کو بتایا گیا تھا کہ انہیں وسطی افریقی جمہوریہ میں صرف تین ماہ کے لیے عارضی قیام کی اجازت دی گئی ہے۔ 31 جولائی کو مزید 31 ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو بھی امریکا سے وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کیا گیا۔تارکین وطن کو خدشہ ہے کہ عارضی رہائش ختم ہونے کے بعد انہیں زبردستی ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جاسکتا ہے۔نیکا کی وکیل سہیر جلیلی پاولسکی اسے دوبارہ امریکا لانے اور اس کی پناہ گزین درخواست بحال کرانے کے لیے وفاقی عدالت سے رجوع کر رہی ہیں۔نیکا کا کہنا ہے کہ اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ جس ملک کو وہ اپنی حفاظت اور نئی زندگی کی امید سمجھ کر پہنچی تھی، اسی ملک نے اسے ایک ایسے افریقی ملک بھیج دیا جہاں اب وہ خود کو غیر محفوظ اور بے یار و مددگار محسوس کر رہی ہے۔

More posts