Baaghi TV

مصنوعی مہنگائی انسانیت کی قاتل ہے،تحریر: محمد یاسر دلدار

پاکستانیوں کی پہچان دنیا مختلف حوالوں سے کرتی ہے مگر ایک پہلو جو آج قابل زکر سمجھ کر پیش کیا جا رہا ہے وہ ہر پاکستانی ایک دوسرے کے متعلق نا صرف جانتا ہے بلکہ اس کا حصہ بھی ہے اور شکار بھی۔یہ ایسا پہلو ہے اس پر کئی کتابیں بھی لکھی جا سکتی ہیں ہم بات کررہے ہیں پاکستانیوں کی کردار پر۔کہا جاتا ہے کسی شخص کے ایمان کی اصل حالت دیکھنی ہو تو اس سے معاملات کر کے دیکھیں جیسا کہ حضرت علی ؓ سے کسی نے ایک عباد ت گزار کا تزکرہ تعریف کی صورت میں کیا تو آپ ؓ نے فرمایا چھوڑو عبادت گزاری کو یہ بتاؤ کہ وہ معاملات میں کیسا انسان ہے اگر کہا جائے کہ اسلام نے کسی مسلمان کو حسن سلوک نہیں دیا تو اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں اس مسلمان نے ہی اسلام پر عمل نہیں کیا الٹا اسلام کا غلط تعارف پیش کیا جس کا وہ جوابدہ ہوگاآقا کریم ﷺ کا فرمان ہے جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔یعنی ملاوٹ کرنے والے کو آپ ﷺ نے اپنی زات اور اُمت سے الگ کر گیا دین محمدی ﷺ نام ہی معیار کا ہے اسی لیے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دی جاتی کہ اسلام خالص اعمال کا نام ہے ساری ایمانداری حسن سلوک عزت فخر کامیابی اسلام کے دامن میں ہے جسے کوئی بددیانت جھوٹا فریبی انسان پیش نہیں کر سکتا اسی لیے ایسے شخص کو اسلام سے الگ کر دیا گیااب ہم بات کرتے ہیں اسلام کی پیروی کرنے کے مقصد سے بنے پاکستان کی عوام کے عمل کی جہاں ہر دوسرا پاکستانی دنیاوی فائدے کے لیے اپنے ایمان میں ملاوٹ کرکے مصنوعی مہنگائی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے بجٹ آنے سے پہلے ہی ضرورت زندگی کی چیزیں سٹاک کرنا سرمایہ کاروں کا فن ہے دوکاندار حضرات گوداموں میں پڑا مال روک کر مہنگا فروخت کرکے زیادہ منافع بٹورنا اپنا کمال سمجھتے ہیں چیزوں کے اوپر پرنٹ ریٹ کے باوجود زیادہ رقم کا مطالبہ کرنا انہیں شرمندہ نہیں کرتابلکہ وہ حکومت کو گالیا ں نکالتے ہوئے کہیں گے ہمارے بس کی بات نہیں اوپر سے مہنگائی ہو رہی ہے اوپر سے مہنگائی کرنے والوں کا اوپر والا پوچھے گا مگر نیچے سے مہنگائی کرنے والوں کا نیچے والوں نے پوچھنا ہے جس میں پہلی زمہ داری حکومتی سطح پر اداروں کی ہوتی ہے پرائز کنٹرولر مجسٹریٹ سمیت قانونی ادارے اس پر فوری طور پر ایکشن کیوں نہیں لیتے کیوں بجٹ سے پہلے دوکانوں گوداموں فیکڑیوں پر چھاپے مار کر پڑے ہوئے مال پر نوٹس نمایاں نہیں کیا جاتا کہ مال سابقہ ریٹ پر ٹیکس ادا کر رہا ہے اضافی قیمت غیر قانونی ہے زیادہ رقم کا مطالبہ کرنے والے سے سامان خرید کر بل بنوائیں اور ان نمبروں پر رابطہ کریں حرام منافع کمانے والوں کو پکڑوانے پر انعام رکھا جائے۔سب سے زیادہ تعداد میں حج عمرے پر جانے والے افراد کا ملک پاکستان جہاں کاروباری مراکز کے زیادہ تر نام مکی مدنی ناموں سے منسوب ہیں مگر یہاں ملاوٹ بد دیانتی کا یہ عالم ہے کہ کوئی بھی چیز خرید لیں ایک وہم شک ضرور ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ معیار یا ریٹ کا فریب دھوکہ لازمی ہوا ہو گافائدہ در فائدہ کمانے والے سے لٹنے کا ڈر ہر گاہک کو لاحق ہوتا ہے یہاں افسوس کا ایک مقام یہ بھی ہے کہ دھوکہ فریب کا شکار ہو جانے والا بندہ قانونی مدد سے مال سرکاری تحویل میں دلانے کی بجائے خود جس دھوکے کا شکار ہوا ہوتا ہے اسے آگے دوسروں پر اپلائی کرتا ہوا دھکیل دیتا ہے یعنی لٹنے والا لوٹنا فرض سمجھتا ہے اس کی ایک وجہ قانونی کمزوریوں کو بھی سمجھا جاتا ہے مگر میں اسے ایمانی کمزوری سمجھتا ہوں کیونکہ ایمان سے بڑا کوئی قانون نہیں جبکہ آقا ﷺ نے خریدا ہوا مال واپس اور تبدیل کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے بلکہ اس سنت کو زندہ کرنے کے لیے ایک صحابی نے کئی سال دوکانداری کی جو سچائی ایمانداری سے کاروبار کرنے کے باوجود چاہت رکھتے تھے کہ کوئی سامان واپس کرنے آئے تو میں رکھ کر اس کی رقم واپس ادا کروں اس عمل کو پورا کرنے میں عرصہ لگا مگر جب ہوا تو آپ نے اگلے ہی دن دوکان بند کر دی غرض کاروبار میں اس حسن کا لانا تھا مگر یہاں مال واپس کرنے والے کو سمجھا جاتا ہے دوکان بند کروا کے گھر آئے گا یہ کبھی کاروبار کا منافع نہیں سمجھے گا کاروبار کی قابلیت کا پیمانہ دھوکہ فریب ہے افسوس اس ملک میں کسی حکومت نے عوام پر اتنے ظلم نہیں کئے جتنے عوام نے عوام پر کئے ہیں اس بہتی گنگا میں سرکاری لوگ بھی ہاتھ دھوتے رہے ہیں یعنی اس ظلم کو کنٹرول کرنے والے تنخواہ لے کر چھوٹ دیتے ہیں اور اضافی رقم سے اپنا حلال حرام بنا کر اولادیں پالتے ہیں اور نالائقی نااہلی بددیانتی کے کئی جائز جواز زہن میں رکھ کر جی رہے ہیں پاکستانی عوام کے ساتھ ایسا کرنے والا ہر سرکاری اور غیر سرکاری فرد پہلے اپنے مذہب کا گنہگار اور مجرم ہے پھر ملک اور انسانیت کا۔حکومت اس نظام کو بدلنے کے لیے خصوصی اقدامات کرئے کسی بھی قابل حکومت کا فن اصلاحات کرنا ہی ہوتا ہے ظلم کرنے والے سہنے والے دیکھنے والے سب برابر کے شریک ہیں حکومت کو ئی گندہ کرئے یا حکومت کسی کو گندہ کرئے جواب دینا پڑئے گا اللہ عدالت لگ کر رہے گی اس لیے ایماندار سچے تاجر کا حشر انبیا اکرام کے ساتھ رکھا گیا ہے اور مردہ ضمیر کے زندہ تاجر وہ کافر ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا انسان ظلم کا شکار ہوتا ہے

More posts