Baaghi TV

معجزے ہوتے ہیں دعائیں سُن لی جاتی ہیں،تحریر:آمنہ خواجہ

زندگی ہمیشہ ہماری خواہشوں کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی راستے پھولوں سے بھرے ہوتے ہیں اور کبھی قدم قدم پر کانٹے بچھ جاتے ہیں۔ کبھی دعائیں مانگتے ہوئے دل کو فوراً سکون مل جاتا ہے اور کبھی انسان برسوں سجدوں میں سر رکھ کر بھی اپنی مراد کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری آواز آسمان تک پہنچ ہی نہیں رہی، جیسے ہماری دعائیں کسی بند دروازے پر دستک دے کر واپس لوٹ آتی ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ رب العالمین اپنے بندے کی ہر آہ سنتا ہے، ہر آنسو دیکھتا ہے، ہر سسکی سے واقف ہے اور دل میں چھپی ہوئی اس خواہش کو بھی جانتا ہے جسے زبان تک لانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

بس فرق اتنا ہے کہ ہم وقت کے حساب سے مانگتے ہیں اور رب حکمت کے حساب سے عطا کرتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ دعا آج مانگی جائے اور قبولیت کل ہمارے دروازے پر کھڑی ہو، مگر اللہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کون سا وقت بہتر ہے، کون سی چیز فائدہ مند ہے اور کون سا راستہ ہمیں منزل تک پہنچائے گا۔ بعض اوقات ہم جس چیز کے لیے بے قرار ہوتے ہیں وہ ہمارے حق میں نقصان دہ ہوتی ہے اور جس چیز کو ہم محرومی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ دراصل کسی بڑی نعمت کی تمہید ہوتی ہے۔

اسی لیے صبر صرف خاموش رہنے کا نام نہیں، صبر اس یقین کا نام ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
جب انسان ہر طرف سے تھک جاتا ہے، جب اپنے بھی اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں، جب راستے بند دکھائی دیتے ہیں، جب ایک کے بعد ایک آزمائش زندگی کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو ایسے وقت میں انسان کے پاس اگر کچھ بچتا ہے تو وہ اللہ پر ایمان، اس پر توکل اور صبر ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو ایک ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
یاد رکھیے، معجزے آج بھی ہوتے ہیں۔

معجزہ صرف یہ نہیں کہ سمندر راستہ دے دے یا ناممکن ممکن ہو جائے۔ کبھی ایک ایسا شخص آپ کی زندگی میں آ جاتا ہے جو آپ کے زخموں پر مرہم بن جاتا ہے، یہ بھی معجزہ ہے۔ کبھی برسوں کی پریشانی کے بعد اچانک حالات بدل جاتے ہیں، یہ بھی معجزہ ہے۔ کبھی انسان کسی ایسی مصیبت سے بچ جاتا ہے جس کا اسے علم تک نہیں ہوتا، یہ بھی رب کی رحمت ہے۔ کبھی ایک دعا قبول ہونے میں وقت لگتا ہے اور پھر انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ اگر وہ دعا پہلے قبول ہو جاتی تو شاید آج کی خوشی نصیب ہی نہ ہوتی۔
اللہ کی تدبیر ہماری سوچ سے کہیں بڑی ہے۔

ہم اکثر ایک دروازہ بند ہونے پر سمجھتے ہیں کہ ہماری دنیا ختم ہو گئی، حالانکہ ممکن ہے رب ہمیں ایک ایسے دروازے کی طرف لے جا رہا ہو جس کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ ہم ایک شخص کے جانے پر ٹوٹ جاتے ہیں، شاید اللہ ہمیں ایسے لوگوں سے ملانے والا ہو جو ہمارے وجود کی قدر جانتے ہوں۔ ہم ایک موقع کے چھن جانے پر روتے ہیں، شاید ہمارے لیے اس سے بہتر موقع محفوظ ہو۔ ہم کسی خواہش کے پورا نہ ہونے کو محرومی سمجھتے ہیں، شاید رب ہمیں اس خواہش کے نقصان سے بچا رہا ہو۔
انسان محدود دیکھتا ہے، اللہ مکمل حقیقت جانتا ہے۔

اس لیے جب زندگی میں کچھ ایسا ہو جائے جسے سمجھنا مشکل ہو تو فوراً یہ فیصلہ نہ کریں کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ ممکن ہے وہ ہمیں کسی بڑی آزمائش سے نکال رہا ہو۔ ممکن ہے ہماری تاخیر میں ہماری حفاظت ہو۔ ممکن ہے ہماری خاموش راتوں کے بعد ایسی صبح لکھی جا چکی ہو جس کا تصور بھی ہمارے وہم و گمان میں نہ ہو۔
اور پھر دعائیں۔
دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔

کبھی دعا اسی صورت میں ملتی ہے جس صورت میں ہم مانگتے ہیں، کبھی اس سے بہتر صورت میں عطا ہوتی ہے اور کبھی کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیتی ہے۔ کبھی دعا کا اثر ہمارے حالات سے پہلے ہمارے دل پر ہوتا ہے۔ انسان وہی ہوتا ہے، مسئلہ وہی ہوتا ہے، حالات بھی وہی ہوتے ہیں مگر دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اتر آتا ہے۔ یہی سکون کبھی کبھی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔

کبھی اللہ حالات نہیں بدلتا، انسان کو حالات برداشت کرنے کی طاقت دے دیتا ہے۔ کبھی مسئلہ ختم نہیں ہوتا مگر دل مضبوط ہو جاتا ہے۔ کبھی راستہ فوراً نہیں کھلتا مگر قدموں میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کبھی انسان کو آخرکار وہ مل جاتا ہے جس کے لیے وہ برسوں سے دعا کر رہا ہوتا ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ انسان دعا کرتے کرتے مایوس نہ ہو۔
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھوں سے آنسو نہ نکلیں۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دل کو درد محسوس نہ ہو۔ صبر یہ ہے کہ آنکھ روئے مگر دل رب سے بدگمان نہ ہو۔ انسان ٹوٹے مگر اپنے رب سے تعلق نہ توڑے۔ زبان پر شکوہ کم اور دعا زیادہ ہو۔ راستے مشکل ہوں مگر قدم حرام راستوں کی طرف نہ جائیں۔
صبر دراصل ایمان کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان کہتا ہے
یا اللہ میں نہیں جانتا مگر تو جانتا ہے
میں نہیں دیکھ سکتا مگر تو دیکھ رہا ہے
میں نہیں سمجھ پا رہا مگر مجھے یقین ہے کہ تیری حکمت مجھ سے بہتر ہے
یہی توکل ہے۔
توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ توکل یہ ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کرے، جائز راستہ اختیار کرے، محنت کرے، دعا کرے اور پھر نتیجہ اپنے رب کے سپرد کر دے۔ کیونکہ کوشش ہمارے اختیار میں ہے، نتیجہ نہیں۔

کتنی ہی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب انسان اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر روتا ہے۔ کسی کو اپنی تکلیف نہیں بتاتا۔ چہرے پر مسکراہٹ رکھتا ہے مگر دل کے اندر طوفان برپا ہوتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص بہت مضبوط ہے، مگر وہ شخص جانتا ہے کہ اسے مضبوط اس کے رب نے رکھا ہوا ہے۔
وہی رب جو ٹوٹے ہوئے دلوں کا حال جانتا ہے۔
اس لیے اگر آج آپ کسی مشکل میں ہیں، اگر آپ کی کوئی دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی، اگر آپ کسی انتظار میں تھک چکے ہیں، اگر آپ کے حالات آپ کے خلاف ہیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی میں خوشیوں کا دروازہ بند ہو گیا ہے تو بس ذرا ٹھہریے۔
مایوس مت ہوں۔
اپنے رب کی رحمت پر یقین رکھیے۔

ہو سکتا ہے جس صبح کا آپ انتظار کر رہے ہیں وہ قریب ہو۔ ہو سکتا ہے جس دعا کو آپ برسوں سے اپنی زندگی کی سب سے بڑی محرومی سمجھ رہے ہیں، اس کا جواب اللہ نے کسی اور شکل میں آپ کے لیے لکھ رکھا ہو۔ ہو سکتا ہے آپ کی زندگی کا سب سے خوبصورت باب ابھی شروع ہی نہ ہوا ہو۔
آپ اچھی طرح سے صبر کریں۔
اپنی دعاؤں کو زندہ رکھیں۔ اپنے سجدوں کو آباد رکھیں۔ اپنے دل کو شکووں سے نہیں یقین سے بھریں۔ حالات خواہ کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، رب العالمین کی رحمت ان سب سے بڑی ہے۔
یقین رکھیے اندھیری رات ہمیشہ نہیں رہتی۔ آنسو ہمیشہ نہیں بہتے۔ زخم ہمیشہ نہیں دکھتے۔ آزمائش ہمیشہ نہیں رہتی۔
زخم بھر دیے جاتے ہیں۔
دعائیں سُن لی جاتی ہیں۔
بند راستے کھول دیے جاتے ہیں۔
ٹوٹے دل جوڑ دیے جاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی وہاں سے روشنی آتی ہے جہاں انسان نے صرف اندھیرا دیکھا ہوتا ہے۔
بس ایمان کو کمزور نہ ہونے دیں۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت یہ یقین ہے کہ میرا رب مجھے بھولا نہیں۔
اور جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو انسان انتظار بھی عبادت سمجھ کر کرتا ہے، آنسو بھی دعا بنا دیتا ہے اور آزمائش میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔
معجزے ہوتے ہیں دعائیں سُن لی جاتی ہیں، زخم بھر دیے جاتے ہیں۔ بس رب العالمین پر ایمان، توکل اور صبر قائم رکھیں۔ کیونکہ جس رب نے آپ کو آج تک سنبھال رکھا ہے، وہ آپ کو آگے بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

More posts