Baaghi TV

ڈرائیور لیس گاڑی پولیس وین سے ٹکرانے کا معاملہ، نوجوان انجینئر کا ویڈیو بیان سامنے آگیا

سوشل میڈیا پر خودکار طریقے سے گاڑی چلانے کے تجربے کے دوران نوجوان کمپیوٹر انجینئر احسان ظفر عباسی کی گاڑی اسلام آباد پولیس کی وین سے جا ٹکرائی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم پولیس نے تحقیقات کے بعد واقعے میں کسی جرم کے ارتکاب سے انکار کرتے ہوئے نوجوان انجینئر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے نوجوان انجینئر کے ہمراہ جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ سوشل میڈیا پر پولیس گاڑی سے دوسری گاڑی کے ٹکرانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں۔ تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ اس واقعے میں کوئی جرم سرزد نہیں ہوا۔

ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ احسان ظفر عباسی کمپیوٹر انجینئرنگ کے طالب علم ہیں اور پاکستان کا مستقبل ہیں۔ وہ اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجی اور ایجاد کو ٹیسٹ کر رہے تھے، اسی دوران گاڑی کا رخ تبدیل ہونے سے حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو نئی ٹیکنالوجی اور تخلیقی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

نوجوان انجینئر احسان ظفر عباسی نے بتایا کہ انہوں نے 2018 سے اپنے گھر میں ایک لیب بنا رکھی ہے جہاں وہ مختلف منصوبوں پر عملی تجربات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ سے حاصل کی گئی معلومات کی مدد سے ڈرائیور لیس گاڑی تیار کرنے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا اور اسی منصوبے کے تحت گاڑی کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔

احسان ظفر عباسی نے بتایا کہ تجربے کے دوران گاڑی اچانک مڑ گئی اور اسلام آباد پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرویو کے دوران گاڑی کو دائیں جانب مڑنا تھا تاہم وہ بائیں جانب مڑ گئی، جس کے باعث پولیس کی گاڑی سے ٹکر ہوگئی۔

نوجوان انجینئر نے کہا کہ واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس نے ان کے ساتھ انتہائی تعاون کیا، پولیس حکام نے ان کے تیار کردہ سسٹم کو سمجھنے کی کوشش کی اور ان سے سوال و جواب بھی کیے۔

احسان ظفر عباسی کا کہنا تھا کہ انہیں پولیس کی جانب سے تعاون ملنے پر خوشی ہے اور وہ مستقبل میں مزید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال بننے کی کوشش کریں گے۔

More posts