Baaghi TV

نظم:وہ معصوم تھی،شاعر،ماہ جبین اظہر

از قلم : ماہ جبین اظہر
وہ معصوم تھی
وہ معصوم تھی…
اندھیری رات کی
سیاہی میں چمکتے جگنوؤں جیسی،
صبح کی پہلی کرن جیسی،
شبنم میں بھیگے
سفید گلاب جیسی،
فرشتوں کے اجلے پروں جیسی۔
وہ معصوم تھی…
اتنی معصوم
کہ اسے دنیا کے رنگوں میں
چھپے ہوئے رنگ نظر نہیں آتے تھے۔
وہ چہروں کو دیکھتی
اور دلوں پر یقین کر لیتی۔
وہ مسکراہٹوں کو
خلوص سمجھتی،
میٹھے لفظوں کو
محبت کا نام دیتی،
اور لوگوں کو…
فرشتہ سمجھتی تھی۔
اسے لگتا تھا
کہ جتنی نرمی
اس کے دل میں ہے،
اتنی ہی نرمی
دنیا کے سینوں میں بھی ہوگی۔
جتنا وہ
کسی کے دکھ پر رو پڑتی ہے،
اتنا ہی
لوگ بھی کسی کا درد
محسوس کرتے ہوں گے۔
کیونکہ…
وہ معصوم تھی۔
کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھتی
تو اس کا دل بے چین ہو جاتا۔
کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی
تو وہ
اپنی ضرورت بھول کر
اس کے لیے دوڑ پڑتی۔
نہ کسی صلے کی خواہش،
نہ کسی تعریف کی طلب۔
وہ صرف اتنا چاہتی تھی
کہ کسی کا درد
کچھ کم ہو جائے۔
وہ سوچتی تھی
کہ نیکی کے بدلے نیکی،
خلوص کے بدلے خلوص
اور محبت کے بدلے محبت ملتی ہے۔
مگر…
وہ نہیں جانتی تھی
کہ اس دنیا میں
کچھ لوگ
دوسروں کے خلوص کو
محبت نہیں…
کمزوری سمجھتے ہیں۔
پھر ایک دن
اس کی زندگی میں
ایک ایسا شخص آیا
جس نے اسے
دنیا کا وہ سبق پڑھایا
جسے وہ کبھی سیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
اس نے
اس کے دل کی دنیا اجاڑ دی۔
اس کی نیکیوں کو بھلا دیا گیا،
اس کے خلوص کو روند دیا گیا،
اور اس کی عزتِ نفس کو
ایسے لفظوں کے حوالے کر دیا گیا
جن کے زخم
خاموش رہ کر بھی
اندر شور مچاتے تھے۔
تب…
اسے معلوم ہوا
کہ ہر چہرہ
دل کا آئینہ نہیں ہوتا۔
ہر مسکراہٹ میں
محبت نہیں ہوتی۔
ہر میٹھا لہجہ
خلوص کی زبان نہیں ہوتا۔
اور ہر وہ شخص
جو آپ کے قریب ہو…
ضروری نہیں
کہ وہ
آپ کا ہو۔
پھر آہستہ آہستہ
اس کا دنیا سے اعتبار
ٹوٹنے لگا۔
وہ اب بھی
لوگوں کے درمیان تھی،
مگر پہلے جیسی نہیں تھی۔
وہ اب بھی
مسکراتی تھی،
مگر اس کی مسکراہٹ
اس کے دل تک نہیں پہنچتی تھی۔
وہ اب بھی
بولتی تھی،
مگر اس کے اندر
ایک خاموشی
بڑھتی جا رہی تھی۔
اور پھر…
وہ لڑکی
جو کبھی چہچہاتی تھی،
جو گنگناتی تھی،
جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں
پوری دنیا تلاش کر لیتی تھی…
ایک دن
بالکل خاموش ہو گئی۔
اتنی خاموش
کہ اس کی موجودگی بھی
غیر موجودگی لگنے لگی۔
لوگوں نے اس کی خاموشی دیکھی…
مگر کسی نے
اس خاموشی کے اندر
دفن ہوتے ہوئے
لفظ نہیں دیکھے۔
کسی نے نہیں پوچھا
کہ اس کے یقین
کہاں گم ہو گئے؟
اس کے خواب
کس نے توڑ دیے؟
اس کی آنکھوں سے
وہ چمک
کس نے چرا لی؟
وہ آج بھی
وہی ہے…
مگر پہلے جیسی نہیں۔
اس کے اندر
اب بھی ایک نرم دل دھڑکتا ہے،
مگر اب
وہ اسے ہر کسی کے سامنے
رکھنے سے ڈرتی ہے۔
کیونکہ…
وہ معصوم تھی۔
بہت معصوم تھی۔
اور شاید
اس کی سب سے بڑی غلطی بھی
بس یہی تھی…
کہ اس نے
اس دنیا کو بھی
اپنے دل جیسا سمجھ لیا تھا۔کیونکہ وہ معصوم تھی
بہت معصوم تھی

More posts