Baaghi TV

کپتان جی ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

عبدالرشید فاروقی وہ نام ہے جو بچوں کا اسلام کے صفحات پر ہمارے بچپن کا خوبصورت اور نکھرا ہوا نقش رہا ہے۔ ہم نے ان کی سحر انگیز کہانیاں پڑھیں، ان کی تحریروں سے گہرا تعلق قائم رہا لیکن اشتیاق احمد صاحب کے بعد بچوں کا اسلام سے رابطہ ٹوٹا، ویسے ہی بہت سے نامور قلم کاروں کی تحریروں سے بھی تعلق کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

لیکن کچھ رفاقتیں اور کتابیں تلاش ہی کر لیتی ہیں۔ حال ہی میں بچوں کی کہانیوں کے ایک مقابلے میں مجھے دوسری پوزیشن ملنے پر میاں اسحاق سنز کی طرف سے دو کتب بطور انعام بھیجی گئیں۔ ان تحائف میں ایک کتاب فاروقی صاحب کی بھی شامل تھی، جن کی تحریروں سے طویل عرصے بعد کتابی صورت میں دوبارہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ 128 صفحات پر مشتمل یہ کتاب پڑھ کر پرانی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں۔
موجودہ دور میں جہاں کاغذ کی گرانی کی وجہ سے کتابوں کی قیمتیں بہت حد تک بڑھ چکی ہیں، وہاں اس خوبصورت اور ہلکے وزن والی کتاب کی قیمت انتہائی مناسب اور عام قارئین کی پہنچ میں رکھی گئی ہے، جو ادارے کی کتب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصنف نے کتاب کا پیش لفظ اپنے بھائی کے نام کیا ہے اور ان کی مختصر سی اور محبت بھری ابتدائی گفتگو کے بعد کہانیوں کا دلکش سفر شروع ہوتا ہے۔
کتاب کا آغاز پہلی کہانی مزا نہیں آتا سے ہوتا ہے جس میں جانوروں کی معصوم دنیا کا خاکہ بنا کر بچوں کو اہم تربیتی سبق دیا گیا ہے کہ جو کام بھی ادھورا یا نامکمل چھوڑ دیا جائے، اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ کام کی تکمیل ہی کامیابی کی پہلی شرط ہے۔

پانی پانی جسم بچوں کو نماز کی اہمیت اور اس کی برکات سے آگاہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ کہانی کا انداز انتہائی دلچسپ اور اسلوب ایسا اثر انگیز ہے کہ بچپن ہی سے عبادات کی ترغیب دینے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔
کانچ کی گولیاں بچوں کی کھلاڑی دنیا کی اس کہانی میں اتحاد، اتفاق اور باہمی یگانگت کا درس بہت خوبصورت اور اثر انگیز پیراۓ میں دیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ بکھر جانے والے کبھی جیت نہیں سکتے۔
انجام دیہاتی زندگی اور ماحول پر مبنی یہ روایتی مگر سچی کہانی ہے، جس میں ظالم اور مغرور وڈیرے کی سرکشی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کہانی اپنے منطقی انجام میں یہ سبق دیتی ہے کہ جب ظلم اور زیادتی حد سے بڑھ جائے تو قدرت کا نظام انصاف حرکت میں آتا ہے اور برائی کا انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے۔
کمزور محبت ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو دنیا کی بے جا مصروفیات اور چکا چوند میں الجھ کر اپنے بوڑھے والدین کو بالکل بھول چکا تھا مگر قدرت کا نظام دیکھیے کہ خود اس کے اپنے بچوں نے اس کو اس بات کا احساس دلایا کہ والدین خواہ کتنے ہی ضعیف اور پختہ عمر کیوں نہ ہو جائیں، انہیں زندگی کے ہر موڑ پر اپنی اولاد کی محبت اور توجہ کی اشد ضرورت رہتی ہے۔

خوشی نہیں دیتے بیدار مغز اور حساس بیٹے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کو سگریٹ نوشی جیسی موذی اور نقصان دہ عادت سے چھڑانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ کہانی یہ مثبت پیغام دیتی ہے کہ کبھی کبھی اولاد کی محبت اور دانشمندی بھی بڑے بزرگوں کو راہِ راست پر لانے کا باعث بن جاتی ہے۔
کپتان جی کتاب کی عنوان کہانی ہے۔ اس میں انتہائی باریک بینی کے ساتھ یہ حقیقت سامنے لائی گئی ہے کہ چاہے گھر کا نظام ہو، عملی زندگی ہو یا کھیل کا میدان، اسے صرف وہی شخص کامیابی سے چلا سکتا ہے جو کھیل کی بساط، اس کی چالوں اور باریکیوں کو سمجھتا ہو۔ اگر کوئی نااہل اور غیر متعلقہ شخص کسی ذمہ دار عہدے پر بیٹھ جائے تو وہ پورے نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔
تلاشِ معاشرے کے ان درد مند اور بے سہارا بچوں کی کہانی ہے جن کی تکلیف کا احساس عام طور پر کوئی نہیں کرتا۔ یہ تحریر ان انسانیت دوست اداروں اور افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو ایسے بے کس طبقے کے لیے کام کرتے ہیں اور ترغیب دیتی ہے کہ معاشرے کے ان کمزور طبقوں کو آگے لانے کے لیے ایسے اداروں کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔

کتاب میں شامل دیگر کہانیاں بھی بے حد دلچسپ، رواں اور با مقصد ہیں۔ ہر کہانی کے دامن میں کوئی نہ کوئی اخلاقی، دینی سبق پوشیدہ ہے جو بچوں اور نوجوانوں کی کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
میں یہ بہترین اور تربیتی کتاب بھیجنے پر میاں اسحاق سنز کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور محترم عبدالرشید فاروقی صاحب کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے ایسی شاہکار کتاب تخلیق کی جو موجودہ دور میں نسلِ نو کی تربیت کے لیے بہترین علمی و اخلاقی تحفہ ہے۔

More posts