Baaghi TV

دریائے سندھ تفریحی مرکز کا خواب،تحریر:رئیس عنایت اللہ چاچڑ

ظاہر پیر اب محض ایک قصبہ نہیں رہا بلکہ آبادی اور ضروریات کے اعتبار سے ایک بڑے شہری مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے اس شہر میں شہری سہولتوں کی ضرورت بھی وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، مگر افسوس کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے آج بھی کوئی ایسا باقاعدہ تفریحی مقام موجود نہیں جہاں شہری، بچے، خواتین اور بزرگ چند لمحے سکون، خوشی اور تازہ ہوا کے ساتھ گزار سکیں۔ خصوصاً خاندانوں کے لیے ایک محفوظ اور خوبصورت تفریحی مقام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ چاچڑاں شریف دریائے سندھ پر قائم بینظیر پل صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ قدرتی حسن اور دلکش مناظر کے باعث ایک بہترین تفریحی مقام بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

چاچڑاں شریف وہ تاریخی اور روحانی سرزمین ہے جہاں حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے اپنی زندگی کے اہم ایام گزارے اور جس خطے سے ان کی عظیم روحانی و ادبی نسبت وابستہ ہے۔ اگر یہاں مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ واکنگ ٹریک، گراسی گراؤنڈ، خوبصورت پودے اور درخت، بچوں کے لیے پلے لینڈ، بیٹھنے کے لیے سایہ دار جگہیں اور خاندانوں کے لیے محفوظ تفریحی ماحول فراہم کر دیا جائے تو یہ پورے علاقے کے لیے ایک شاندار تحفہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دریائے سندھ کے حسین مناظر اور چاچڑاں شریف کی تاریخی و روحانی شناخت اس مقام کو ایک منفرد تفریحی مرکز میں تبدیل کرنے کی بہترین بنیاد فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً عیدین، جشنِ آزادی اور دیگر قومی و مذہبی تہواروں کے مواقع پر ظاہر پیر کے شہریوں کو تفریح کے لیے رحیم یار خان، بہاولپور یا دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ہر خاندان کے لیے دور دراز سفر کرنا آسان نہیں۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے تو یہ ضرورت مزید اہم ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے شہر کے لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں چند ساعتیں خوشی، سکون اور تفریح کے ساتھ گزارنے کا حق کیوں نہ ملے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندگان اس مسئلے کو محض ایک مطالبہ سمجھنے کے بجائے شہری ضرورت اور بنیادی سہولت کے طور پر دیکھیں۔ بینظیر پل کے اطراف مناسب جگہ کا انتخاب کرکے ایک خوبصورت فیملی پارک، واکنگ ٹریک اور بچوں کے لیے کھیل کا میدان بنایا جا سکتا ہے۔ شجرکاری اور خوبصورت لینڈ اسکیپنگ سے اس مقام کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ دریائے سندھ کے قدرتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک منظم اور پُرکشش تفریحی مرکز کی شکل دی جا سکتی ہے۔

ایک اچھا تفریحی مقام صرف سیر و تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کو کھیلنے کی جگہ، نوجوانوں کو واک اور ورزش کا موقع، خواتین کو محفوظ ماحول اور خاندانوں کو ایک ساتھ وقت گزارنے کی سہولت ملتی ہے۔ ایسے مقامات شہریوں کی ذہنی آسودگی، جسمانی صحت اور معاشرتی میل جول کے لیے بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ظاہر پیر کے شہری کسی غیر معمولی سہولت کا مطالبہ نہیں کر رہے، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شہر میں بھی ایک ایسا خوبصورت، محفوظ اور باوقار مقام ہو جس پر وہ فخر کر سکیں۔ چاچڑاں شریف بینظیر پل کے مقام کو اگر ایک خوبصورت تفریحی مرکز میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ نہ صرف ظاہر پیر بلکہ پورے خطے کے لیے ایک قابلِ ذکر منصوبہ بن سکتا ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے قدرتی حسن، شہری سہولت، خاندانوں کی خوشیاں اور چاچڑاں شریف کی حضرت خواجہ غلام فریدؒ سے وابستہ روحانی و ادبی شناخت مل کر اس منصوبے کو ایک منفرد حیثیت دے سکتی ہے۔ اب وقت ہے کہ ظاہر پیر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ اس کی ضروریات کو بھی سمجھا جائے اور شہریوں کو ایک خوبصورت، محفوظ اور باوقار تفریحی مقام کا حق دیا جائے۔ دریائے سندھ کے کنارے تفریحی مرکز کا یہ خواب اگر عملی شکل اختیار کر لے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے صحت، خوشی، خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کا ایک حسین تحفہ ثابت ہوگا۔

More posts