Baaghi TV

میکسیکو میں مویشیوں کی متروکہ چراگاہ پر شجرکاری کا 17 سالہ تجربہ، 5 ہزار کے قریب پودے اُگ آئے

میکسیکو میں سائنسدانوں نے 17 سال تک جاری رہنے والے ایک تجربے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ مویشیوں کی متروکہ چراگاہوں پر مقامی درخت لگانے سے جنگلات کی قدرتی بحالی کے عمل کو نمایاں طور پر تیز کیا جاسکتا ہے، جبکہ جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں کی شجرکاری سے جنگلات کی نئی اقسام کے دوبارہ پنپنے میں خاص طور پر مدد ملتی ہے۔

یہ طویل المدتی تجربہ 2006 میں میکسیکو کے علاقے لاس توکسٹلاس، ریاست ویراکروز میں شروع کیا گیا تھا۔ محققین نے مویشیوں کی متروکہ چراگاہ کے کچھ حصوں کو باڑ لگا کر محفوظ کیا اور وہاں مختلف طریقوں سے مقامی درخت لگائے، جبکہ بعض حصوں کو قدرتی طور پر دوبارہ جنگل بننے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

جولائی 2023 میں، تجربہ شروع ہونے کے 17 سال بعد، محققین نے بحالی کے مختلف پلاٹس کا دوبارہ جائزہ لیا۔ سروے کے دوران مجموعی طور پر 4 ہزار 847 پودے اور درخت ریکارڈ کیے گئے، جن کا تعلق 109 مختلف حیاتیاتی گروہوں سے تھا۔ تحقیق میں 40 سے 225 سینٹی میٹر تک بلند لکڑی دار پودوں اور کھجوروں پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ بحال ہوتے جنگل کی نچلی نباتاتی سطح کا جائزہ لیا جاسکے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن علاقوں میں درخت لگائے گئے تھے وہاں قدرتی طور پر بحالی کے لیے چھوڑے گئے علاقوں کے مقابلے میں پودوں اور انواع کی تعداد زیادہ تھی۔

جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں والے پلاٹس میں اوسطاً 253 پودے اور 33.5 اقسام فی پلاٹ ریکارڈ ہوئیں، جبکہ ہوا کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں کے پلاٹس میں اوسطاً 219 پودے اور 29.1 اقسام موجود تھیں۔ قدرتی طور پر بحالی کے لیے چھوڑے گئے علاقوں میں اوسطاً 134 پودے اور 20 اقسام ریکارڈ کی گئیں۔

محققین نے جب ان پودوں کو تجزیے سے نکال دیا جو ابتدا میں خود لگائے گئے درختوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، تب بھی جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں والے علاقوں میں نئے پودوں کی تعداد قدرتی بحالی والے علاقوں سے زیادہ رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لگائے گئے درختوں نے دیگر جنگلاتی انواع کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں وہ خود بھی پہنچ کر نشوونما پاسکیں۔

تحقیق کے مطابق جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے پلاٹس میں 21 منفرد نباتاتی گروہ پائے گئے، جبکہ ہوا کے ذریعے بیج پھیلانے والے پلاٹس میں 20 اور قدرتی بحالی والے علاقوں میں صرف 10 منفرد گروہ ریکارڈ ہوئے۔

محققین کے مطابق جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے پلاٹس میں ایسی غیر ابتدائی جنگلاتی انواع کے نئے پودے بھی زیادہ تعداد میں سامنے آئے جو دوسرے طریقوں سے بحال ہونے والے علاقوں میں کم تھے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ قدرتی طور پر بحال ہونے والے علاقوں میں چند مخصوص ابتدائی اقسام کے پودوں کا غلبہ زیادہ تھا، جبکہ شجرکاری والے علاقوں میں مختلف جنگلاتی انواع کے لیے بہتر ماحول پیدا ہوا اور وہ وہاں قائم ہونے میں کامیاب رہیں۔

تاہم، جب ابتدائی طور پر لگائی گئی انواع کو تجزیے سے نکالا گیا تو مختلف بحالی طریقوں کے درمیان مجموعی نباتاتی ساخت کافی حد تک ایک جیسی ہوگئی۔ محققین کے مطابق بحالی کی حکمت عملی نے نباتاتی برادری میں مجموعی فرق کا صرف 3.7 فیصد واضح کیا۔

یہ تحقیق ScienceDirect پر شائع ہونے والے مطالعے "Understory contrasts across experimental tropical forest restoration” میں پیش کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تجربہ استوائی جنگلات کی بحالی کے حوالے سے 17 سالہ مشاہدات فراہم کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ مناسب مقامی درختوں کی شجرکاری تباہ شدہ زمین پر پودوں کی تعداد اور تنوع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

محققین کے مطابق درخت لگانے کا فائدہ صرف نئی سبزہ کاری تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایسا قدرتی ماحول بھی تشکیل دے سکتا ہے جہاں مزید جنگلاتی انواع پہنچ کر مستقل طور پر نشوونما پاسکیں، جس سے متروکہ مویشیوں کی چراگاہوں کو دوبارہ گھنے استوائی جنگلات میں تبدیل کرنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔

More posts