لاہور اور کراچی کا موازنہ محض دو شہروں کا قصہ نہیں، بلکہ دو متضاد کائناتوں، دو الگ فلسفوں اور دو بالکل جداگانہ مزاجوں کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے؛ جس میں فتح کا دعویٰ دونوں کرتے ہیں اور ہار ماننے پر راضی کوئی نہیں۔ لاہور اگر خاندانی نوابی، زرق برق لباس، صبح کے ناشتے میں پائے اور شام کو شاہی حمام کی پرانی یادوں کا نام ہے، تو کراچی ایک ایسی مسلسل دوڑتی ہوئی لوکل بس ہے جس کی چھت پر بھی سواریاں لٹکی ہیں، بریکیں فیل ہیں، مگر وہ پھر بھی پورے ملک کا بوجھ کھینچ کر آگے لے جا رہی ہے۔ لاہور مغلئی دسترخوان پر بیٹھا وہ روایتی پھوپھا ہے جو بات بے بات اپنی پرانی جاگیروں کے قصے چھیڑ دیتا ہے، جبکہ کراچی دن رات پسینے میں شرابور وہ محنتی تاجر ہے جس کے پاس لمبی چوڑی باتیں سننے کی فرصت ہے نہ فضول نخرے اٹھانے کا وقت!
اہلِ لاہور کا تو گویا ایمان ہے کہ کائنات کی تخلیق کا اصل مقصد محض کھانا کھانا تھا، باقی تمام معمولات تو انسان نے وقت گزاری کے لیے ازخود تراشے۔ ایک عام لاہوری کے لیے زندگی کا سب سے گمبھیر اور وجودی سوال یہ نہیں ہوتا کہ "میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں؟”، بلکہ اصل الجھن یہ ہوتی ہے کہ "صبح کی حلوہ پوری۔ دوپہر کو بٹ کی کڑاہی کھائی جائے یا رات کو گوالمنڈی کے سیخ کباب؟” لاہور میں اگر کوئی شخص غمگین بیٹھا ہو تو اس کے دکھ کا مداوا فلسفے یا ہمدردی میں نہیں ملتا، بلکہ اسے نہاری کی پلیٹ میں تری اور نلی کا اضافی تڑکا لگا کر دیا جائے تو وہ فوراً کھل اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس کراچی کا معاملہ نرا چٹپٹا اور عملی ہے۔ کراچی والا صبح کی تیز رفتار لہر کے ساتھ بستر سے چھلانگ لگاتا ہے، دفتر کے راستے میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے تندور سے پراٹھا اور کڑک چائے کا گھونٹ حلق میں انڈیلتا ہے، اور شام کو کسی چوراہے پر کھڑے ہو کر سلور کے تھال سے ایسی تیز مصالحے دار بریانی اڑاتا ہے جس کے آگے اچھے اچھے دلیروں کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے۔ لاہور کے نزدیک بریانی چاولوں کی ایک غیر سنجیدہ قسم ہے جسے وہ پلاؤ کے پاؤں کی دھول سمجھتے ہیں، جبکہ کراچی والے کے لیے آلو کے بغیر بریانی کا تصور ویسا ہی کفر ہے جیسا سمندر کے بغیر کراچی کا تصور!
موسم کا احوال دیکھیے تو دونوں شہروں کی چشمک اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ لاہور سال کے چند مہینے تو زردے کی دیگ کی طرح دہکتا ہے اور سردیوں میں ایسی دبیز، گہری اسموگ اوڑھ کر بیٹھ جاتا ہے کہ سامنے کھڑا بھائی بھی قیامت کا فرشتہ محسوس ہو۔ لاہوریے گلے میں مفلر لپیٹ کر، چھتوں پر باربی کیو کے دھوئیں میں اسموگ کا تڑکا لگا کر داد دیتے ہیں کہ "دیکھو جی، کیسا کلاسک اور ٹھنڈا موسم ہے!” دوسری طرف کراچی ہے جس کے نصیب میں صرف ایک ہی موسم لکھا ہے؛ یعنی چپچپاتی، نمکین گرمی اور حبس! وہاں اکیس دسمبر کو بھی پنکھا پوری رفتار سے چل رہا ہوتا ہے۔ ذرا سی سمندری ہوا میں خنکی آ جائے تو کراچی والے فوراً الماریوں سے چمڑے کی پرانی جیکٹیں، اونی ٹوپیاں اور دستانے نکال لاتے ہیں، گویا وہ کلفٹن کے ساحل پر نہیں بلکہ سائبیریا کے برفانی میدانوں میں چہل قدمی کر رہے ہوں۔
زبان اور گفتگو کا تضاد تو ایک الگ ہی لطف دیتا ہے۔ لاہوری جب بات شروع کرتا ہے تو اس کی ہر بات "او جی تُسی چھڈو”، "جان دیو” اور پرتکلف القابات سے آراستہ ہوتی ہے، مگر اس ساری لچھے دار شیرینی کے اندر طنز کا ایسا چھپا ہوا خنجر ہوتا ہے کہ سننے والا مسکراتے مسکراتے اندر تک گھائل ہو جائے۔ اس کے برعکس کراچی کی بول چال میں تکلف نام کی کوئی شے نہیں۔ وہاں ہر ناواقف چند ہی لمحوں میں "بھائی”، "باس” یا "چیف” بن جاتا ہے۔ کراچی والا اپنی بات اتنی سپاٹ اور بنا کسی گھی شکر کے یوں سامنے رکھتا ہے کہ انسان ایک بار تو سن کر چکرا جائے۔ بات بات پر "کیا سین ہے؟”، "سین آن ہے” اور "اپن کو بولا نا” کے ایسے تیر چلتے ہیں کہ لاہور کا روایتی ادبی طبقہ سر پکڑ کر بیٹھ جائے۔
سڑکوں کی صورتحال کا موازنہ کریں تو لاہور اپنی چوڑی چکلی کینال روڈ، خوبصورت انڈر پاسز اور شاندار فلائی اوورز پر یوں فخر کرتا ہے جیسے وہ پیرس کا جڑواں بھائی ہو۔ وہاں گاڑی پر اگر ایک معمولی سی خراش بھی آ جائے تو ڈرائیور گاڑی سے اتر کر یوں سینہ پیٹتا ہے جیسے اس کی خاندانی حویلی کی چھت گر گئی ہو۔ ادھر کراچی کی سڑکیں کسی قدیم کھدائی کے کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں، جہاں روزانہ گڑھوں اور کھلی نالیوں سے بچ کر نکلنا موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے کے برابر ہے۔ کراچی میں ہر دوسری گاڑی یوں پچکی، ٹوٹی اور رگڑی ہوئی ملتی ہے جیسے ابھی جنگِ عظیم سے بچ کر نکلی ہو، مگر ڈرائیور بڑے اطمینان سے پان کی پیک تھوک کر کہتا ہے، "ارے چھوڑو بھائی، چل تو رہی ہے نا!” یونیورسٹی روڈ آثار قدیمہ کا انمول انٹیک ہے۔ لاہور میں روڈوں کا جال جس پر کوئی الجھ جاتا ہے ایسا الجھتا ہے کہ واپسی کے لیے پٹرول کی ٹینک کے لیے سعودی عرب کے سفر کا خرچ کرنا پڑتا ہے۔
حفاظتی نفسیات میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ لاہوری رات کو اطمینان سے قمیص کے بٹن کھولے، چارپائی پر بیٹھ کر قلفی کا مزا لیتا ہے اور برابر سے موٹر سائیکل بھی گزر جائے تو سر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ ادھر کراچی والے کی نگاہیں مستقل ریڈار کی طرح گھومتی رہتی ہیں۔ ہلکی سی موٹر سائیکل کی آواز پر اس کا ہاتھ فوراً جیب میں رکھے اس سستے، فالتو موبائل کی طرف لپکتا ہے جو اس نے لٹیروں کی نذر کرنے کے لیے خاص طور پر رکھا ہوتا ہے۔ کراچی والے کی حسِ مزاح بھی اسی غیر یقینی فضا میں پل کر اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ وہ پستول کی نال دیکھ کر بھی مسکرا کر کہہ دیتا ہے، "بھائی جلدی نمٹاؤ، پیچھے اور بھی گاہک کھڑے ہیں!”
شام کی تفریح کو دیکھیے تو لاہور اپنے سجے سجائے کیفوں، لبرٹی مارکیٹ کے گول گپوں اور باغات کی سیر میں گم رہتا ہے، جہاں نمائش اور سج دھج کا اپنا الگ ہی رنگ ہے۔ دوسری طرف کراچی سارا دن مشین کی طرح جپتنے کے بعد رات گئے سی ویو کی ٹھنڈی ریت پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا ہے۔ سمندر کی نمکین ہوا، گانوں کا شور، اونٹ کی سواری اور کڑک چائے کی پیالی ان کے دن بھر کی تھکن کو یوں نگل جاتی ہے جیسے لہریں ریت پر بنے گھروندوں کو نگل لیتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے پاس شاہی تاریخ، پرشکوہ عمارات، زندہ دلی اور صدیوں کی تہذیب کا وقار ہے، تو کراچی کے پاس پورے ملک کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کا بے لوث اور بے پناہ حوصلہ ہے۔ لاہور اگر اس وطن کا آراستہ ڈرائنگ روم ہے جہاں مہمانوں کو بٹھا کر مغلئی تکلفات سے نوازا جاتا ہے، تو کراچی اس گھر کا وہ تپتا ہوا باورچی خانہ اور تجارتی گودام ہے جس کے بغیر اس پورے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ دونوں کے درمیان لاکھ نوک جھونک رہے، مگر ایک کے بغیر اس ملک کی رونق نامکمل ہے اور دوسرے کے بغیر اس کی سانسیں!
