لہو شہیدوں کا شامل ہے اس مٹی کی خوشبو میں،
6 ستمبر ہمیں وطن پر مٹ جانے کا ہنر سکھاتا ہے۔
سلام اُن جانبازوں کو جنہوں نے سرحدوں کو لہو سے سینچا،
آج بھی پاکستان اُن کی قربانیوں کا مقروض ہے۔
تجزیہ شہزاد قریشی
6 ستمبر صرف ایک تاریخ نہیں، یہ پاکستان کی روح میں دھڑکنے والا وہ جذبہ ہے جسے نہ وقت مٹا سکا ہے اور نہ ہی حالات کی گرد دھندلا سکی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کے بیٹوں نے اپنے لہو سے وطن کے دفاع کی ایسی داستان لکھی جو رہتی دنیا تک سنائی جاتی رہے گی۔
ستمبر 1965ء کی وہ صبح آج بھی قوم کے حافظے میں زندہ ہے، جب دشمن نے یہ گمان کیا کہ وہ پاکستان کے حوصلوں کو جھکا دے گا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کا وطن ہے جو اپنی مٹی سے عشق کرتی ہے۔ جب خطرے کی گھنٹیاں بجیں تو صرف فوجی ہی مورچوں میں نہیں گئے، بلکہ پوری قوم ایک لشکر بن گئی۔ مائیں اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے سائے میں رخصت کر رہی تھیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی سلامتی کے لیے سجدہ ریز تھیں، اور بچے اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر وطن کی حفاظت کی دعائیں مانگ رہے تھے۔
اس دن پاکستانی جوانوں نے ثابت کیا کہ ہتھیاروں کی تعداد نہیں، بلکہ دلوں کا یقین جنگوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ وطن کے ان سپوتوں نے اپنی جانوں کے چراغ بجھا کر پاکستان کی آزادی کی شمع روشن رکھی۔ ان کے لہو کی خوشبو آج بھی اس دھرتی کی مٹی سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہر شہید کی قبر قوم سے یہ کہتی ہے کہ پاکستان ہمیں جان سے زیادہ عزیز تھا، اب اس کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔
6 ستمبر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف سرحدوں پر نہیں جیتتیں، بلکہ اپنے اتحاد، اپنے کردار اور اپنی قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ آج اگر ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، اپنے گھروں میں محفوظ ہیں اور اپنے سبز ہلالی پرچم کو سربلند دیکھتے ہیں، تو اس کے پیچھے ان شہداء کا مقدس خون شامل ہے جنہوں نے وطن کے لیے اپنی زندگیاں نچھاور کر دیں۔
آج جب ہم یومِ دفاع مناتے ہیں تو ہمیں صرف توپوں کی گھن گرج اور جنگی فتوحات کو یاد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان ماؤں کی عظمت کو بھی سلام پیش کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے جگر گوشے وطن پر قربان کر دیے، ان بیواؤں کے صبر کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے سہاگ پاکستان کے نام کر دیے، اور ان بچوں کے جذبے کو سلام کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے باپوں کی شہادت پر فخر کیا۔
6 ستمبر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، ایک امانت ہے۔ ایک ایسی امانت جسے ہمارے بزرگوں نے قربانیوں سے حاصل کیا اور ہمارے شہداء نے اپنے خون سے محفوظ بنایا۔ اس امانت کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔
آؤ آج اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی عزت، وحدت اور ترقی کے لیے کام کریں گے۔ کیونکہ جب قوم ایک دل بن جائے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔
