کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان جتنا دبانے کی کوشش کرتا ہے، وہ اتنے ہی گہرے ہو کر اندر سے آواز دینے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر خاموش رہنا بظاہر سکون تو دے دیتا ہے، مگر اندر کہیں ایک شخص مسلسل مر رہا ہوتا ہے۔ شاید ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا مقام ضرور آتا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ لوگوں کی پسند بن کر جئے گا یا اپنے ضمیر کی آواز بن کر۔
ہم نے عجیب معاشرہ بنا لیا ہے۔ یہاں مختلف سوچنا بدتمیزی ہے، سوال کرنا گستاخی ہے، اپنی رائے رکھنا ضد ہے اور خاموش رہنا سمجھ داری۔ یہاں انسان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم نے کیا سوچا؟ اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ شاید ہماری بہت سی زندگیاں اسی ایک جملے کے خوف میں گزر جاتی ہیں۔میں نے بھی ایک وقت تک یہی سوچا کہ شاید خود کو بدل لینا چاہیے۔ شاید اپنے سوال چھپا لینے چاہییں، شاید کچھ باتوں پر خاموش ہو جانا چاہیے، شاید ہر اختلاف کو نگل لینا چاہیے تاکہ کسی کو برا نہ لگے۔ مگر پھر سمجھ آیا کہ ہر بار خود کو بدلتے بدلتے ایک دن انسان اپنے ہی وجود سے اجنبی ہو جاتا ہے۔ وہ سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں آخرکار اُس ایک شخص کو کھو دیتا ہے جس کے ساتھ اسے پوری زندگی گزارنی ہوتی ہے؛ خود کو۔
اسی دن میرے اندر ایک بغاوت نے جنم لیا۔
مگر یہ بغاوت شور نہیں تھی۔ نہ کسی کے خلاف نعرہ تھا، نہ کسی کو نیچا دکھانے کی خواہش۔ یہ تو بس ایک خاموش فیصلہ تھا کہ اب میں ہر اُس بات کو صرف اس لیے درست نہیں مانوں گی کہ اسے سب درست کہتے ہیں۔ اب میں ہر اُس روایت کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گی جو انسان کی عزت سے بڑی بنا دی گئی ہو۔ اب میں ہر اُس خاموشی کو فضیلت نہیں سمجھوں گی جو ظلم کو سہارا دیتی ہو۔
کیونکہ سوال کرنا دین سے دوری نہیں، اگر سوال کا مقصد حقیقت تک پہنچنا ہو۔ اختلاف اخلاق سے بغاوت نہیں، اگر اختلاف میں دوسرے انسان کی عزت باقی رہے۔ اور اپنے لیے سوچنا خودغرضی نہیں، اگر اپنی آزادی کے ساتھ دوسروں کے حق کا بھی خیال رکھا جائے۔
میری بغاوت دراصل انسان کو انسان سے بڑا یا چھوٹا بنانے کے خلاف ہے۔ میں اُس معاشرتی پیمانے کو نہیں مانتی جہاں کسی کی قیمت اس کے عہدے، لباس، دولت، خاندان یا شہرت سے طے ہو۔ میرے نزدیک انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا نمایاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اُس شخص کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے جس سے اسے کوئی فائدہ نہیں ملنا۔
ہم اخلاق کی بات بہت کرتے ہیں، مگر اخلاق کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں ہمارے سامنے ہمارا مخالف کھڑا ہو۔ ہم برداشت کے قصے سناتے ہیں، مگر ذرا سا اختلاف ہو تو دوسرے کی نیت، کردار اور انسانیت تک پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔ شاید ہم نے اصولوں کو بھی اپنی سہولت کے مطابق پہننا سیکھ لیا ہے؛ اپنے لیے نرمی، دوسروں کے لیے سختی۔
میں اس دوہرے معیار سے باغی ہوں۔
میں اُس سوچ سے باغی ہوں جو عورت کو صرف اس لیے کم تر سمجھتی ہے کہ وہ اپنی رائے رکھتی ہے۔ میں اُس ذہنیت سے باغی ہوں جو نوجوان کے سوال کو بدتمیزی سمجھتی ہے۔ میں اُس رویّے سے باغی ہوں جو غریب کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیتا ہے۔ اور میں اُس معاشرے سے بھی باغی ہوں جہاں طاقتور کی غلطی کو مصلحت کہہ کر نظرانداز کیا جاتا ہے، مگر کمزور کی ایک لغزش کو اس کے پورے کردار کا فیصلہ بنا دیا جاتا ہے۔
لیکن شاید سب سے بڑی بغاوت باہر کی دنیا سے نہیں، اپنے اندر سے ہوتی ہے۔ اپنی انا کے خلاف کھڑا ہونا، اپنی غلطی مان لینا، اپنے پسندیدہ شخص کو غلط کہنے کی ہمت کرنا، یہ تسلیم کرنا کہ جس نظریے پر ہمیں ناز ہے، ممکن ہے اس میں بھی کوئی کمی ہو، یہ مان لینا کہ سچ ہمیشہ ہماری طرف نہیں ہوتا۔ یہ سب انسان کو توڑتے بھی ہیں اور بناتے بھی ہیں۔
اور شاید یہی وہ بغاوت ہے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسی بغاوت جو دین کو نہیں توڑتی بلکہ دین کے نام پر کھڑی کی گئی نفرتوں کو توڑتی ہے۔ ایسی بغاوت جو اخلاق کو ختم نہیں کرتی بلکہ اخلاق کے دوہرے معیار کو ختم کرتی ہے۔ ایسی بغاوت جو انسان کو بےلگام نہیں کرتی بلکہ اسے اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ بناتی ہے۔
کیونکہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرے۔ آزادی کا اصل مطلب شاید یہ ہے کہ انسان صحیح اور غلط میں فرق سمجھنے کی ذمہ داری خود اٹھائے۔
اور اگر اپنے ضمیر کی آواز سننا بغاوت ہے، اگر سوال کرنا بغاوت ہے، اگر ناانصافی کے سامنے خاموش نہ رہنا بغاوت ہے، اگر انسان کو اس کی انسانیت کے ساتھ دیکھنا بغاوت ہے، تو پھر شاید ہمیں کچھ بغاوتیں سیکھنی چاہییں۔
کیونکہ ہر خاموش شخص پُرامن نہیں ہوتا، کچھ لوگ صرف ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔
اور ہر باغی گمراہ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی باغی وہ ہوتا ہے جو ہجوم میں کھڑے ہو کر پہلی بار یہ پوچھنے کی ہمت کرتا ہے کہ اگر سب غلط سمت میں جا رہے ہوں، تو کیا صرف اس لیے میں بھی ان کے ساتھ چلتا رہوں کہ اکیلا رہ جانے سے ڈرتا ہوں؟
