Baaghi TV

برطانیہ: ڈوور بندرگاہ جانے والی سڑکیں نقاب پوش مظاہرین نے بند کردیں

لندن: برطانیہ کی مصروف ترین فیری بندرگاہ ڈوور جانے والی سڑکوں کو نقاب پوش افراد کے ایک گروپ نے ہفتے کے روز بند کردیا، جسے حکام نے بظاہر غیر قانونی تارکین وطن اور امیگریشن کے خلاف احتجاج قرار دیا ہے۔

پورٹ آف ڈوور انتظامیہ کے مطابق جاری عوامی نظم و ضبط کی صورتحال کے باعث بندرگاہ میں داخل ہونے اور باہر جانے والی تمام ٹریفک روک دی گئی، جبکہ پولیس نے بتایا کہ وہ مظاہرین سے رابطے میں ہے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں سیاہ لباس اور نقاب پہنے درجنوں افراد کو بندرگاہ کے قریب مرکزی سڑک پر کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں مظاہرین نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر سڑک بند کر رکھی ہے اور ’’کشتیوں کو روکو‘‘ کے نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

مقامی کنزرویٹو کونسلر کرس ونسن نے احتجاج کو غیر قانونی امیگریشن سے متعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی تشدد کی اطلاع نہیں، تاہم سیاہ نیم فوجی لباس اور نقاب پہنے افراد کی جانب سے گاڑیوں کا راستہ روکنا انتہائی خوف زدہ کرنے والا عمل ہے۔نیشنل ہائی ویز ایجنسی کے مطابق احتجاج کے باعث بندرگاہ جانے والے راستے بند ہونے سے ہفتے کی صبح تقریباً 4 میل (6.4 کلومیٹر) طویل ٹریفک جام ہوگیا۔ بندرگاہ انتظامیہ نے بعد ازاں بتایا کہ ایک راستہ ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

ڈوور اور فرانس کے شہر کیلے کے درمیان فیری سروس چلانے والی کمپنی پی اینڈ او فیریز نے کہا ہے کہ احتجاج کے باعث اپنی فیری سے محروم ہونے والے مسافروں کو اگلی دستیاب سروس پر سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔لندن سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ڈوور بندرگاہ سے 2025 کے دوران 90 لاکھ سے زائد مسافروں اور تقریباً 20 لاکھ مال بردار گاڑیوں نے سفر کیا تھا۔ڈوور میں اس سے قبل بھی فرانس سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کے خلاف احتجاج ہوچکے ہیں۔ دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فاریج بھی غیر قانونی ہجرت کے معاملے کو مسلسل اجاگر کرتے رہے ہیں۔

برطانوی لیبر حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بڑھتے ہوئے تعاون کے باعث رواں سال چھوٹی کشتیوں کے ذریعے چینل عبور کرنے والوں کی تعداد 2025 کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے۔ڈوور سے رکن پارلیمنٹ اور لیبر رہنما مائیک ٹیپ نے احتجاج کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈوور آکر خلل پیدا کرنے والے افراد کو اپنے گھروں کو واپس جانا چاہیے، جبکہ حکومت غیر قانونی کشتیوں کے ذریعے آنے والوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہے۔

More posts