ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز خلیج میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی فورسز نے نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ خارگ جزیرے سے موجود اس کے نمائندے نے بتایا کہ ٹینکر پر 4 امریکی میزائل داغے گئے ہیں رپورٹ کے مطابق یہ حملہ خارگ جزیرے کے لنگر انداز ہونے والے علاقے کے قریب کیا گیا۔
ایرانی نیوز ویب سائٹ عصر ایران نے بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی ٹینکر پر امریکی فورسز کی جانب سے 4 میزائل داغے گئے رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر سے تیل اتارا جا رہا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے میں ٹینکر کو کتنا نقصان پہنچا یا اس میں سوار افراد کس حال میں ہے ایرانی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا اس لیے ٹینکر پر حملے سے متعلق تسنیم کی رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ خلیج کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم دھماکوں کے بعد دھوئیں کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
ریاست سے وابستہ ایرانی نیوز ویب سائٹ نور نیوز نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی خارگ جزیرے کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں 31 اگست کو سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام میں، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو بھی شامل تھی، ٹرمپ نے کہا تھا کہ خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے 11 جون کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ خارگ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاہم چند روز بعد انہوں نے کہا کہ جزیرے کے خلاف مجوزہ امریکی فوجی کارروائی فی الحال زیر غور نہیں ہے۔ اس کے بعد 17 جون کو تہران اور واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کے مقصد سے ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اگر خارگ جزیرے یا وہاں موجود تیل کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے ایران کی تیل کی صنعت اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا تاہم ہفتے کے روز ایرانی ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے حوالے سے واشنگٹن یا تہران کی جانب سے تاحال کوئی مکمل سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
