Baaghi TV

حماد اظہر کی گرفتاری، والدہ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

hammad azhar

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر کی والدہ نے ان کی مبینہ گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

درخواست میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر حکام کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ حماد اظہر کو فوری طور پر عدالت یا متعلقہ مجاز عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے اور ان کی گرفتاری و حراست کی قانونی بنیاد بھی عدالت کے سامنے لائی جائے۔

درخواست میں حماد اظہر کو وکلا سے فوری ملاقات اور مشاورت کی اجازت دینے کے ساتھ اہل خانہ سے بھی رابطے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے، اس کے علاوہ رخواست میں پولیس سے حماد اظہر کے خلاف درج ایف آئی آر، گرفتاری میمو، ریمانڈ آرڈر، حراستی حکم اور حراست سے متعلق دیگر تمام دستاو یز ات بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ اگر حماد اظہر کی حراست آئین اور قانون کے مطابق نہیں تو اسے غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیا جائے۔

پی ٹی آئی نے گزشتہ روز ایک بیان میں ان کی “گرفتاری” کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے “سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور فسطائی ہتھکنڈوں کا تسلسل” قرار دیا تھا “حماد اظہر ایک سابق وفاقی وزیر ہیں، ان کے خلاف اگر کوئی مقدمہ ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔”

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حماد اظہر کی والدہ کے وکیل ابوذر نیازی نے کہا کہ حماد اظہر کے خلاف تقریباً 71 ایف آئی آرز درج ہیں، تاہم پولیس حماد اظہر کو عدالت میں پیش کیے جانے کے حوالے سے کچھ نہیں بتا رہی۔ ان کے مطابق حماد اظہر کو دو روز قبل ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حماد اظہر 2018 میں لاہور سے پی ٹی آئی کے ممبر نیشنل اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور عمران خان کے دور حکومت میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور اور وزیرِ صنعت و پیداوار رہے اس کے علاوہ وہ پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اور قائم مقام صدر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے تنظیمی اختلافات اور دباؤ کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا وہ 9 مئی واقعات کے بعد کئی ماہ روپوش رہے اور جولائی 2025 میں اپنے والد اور سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے منظر سامنے پر آئے تھے-

More posts