چیری ماسٹر پاکستان نے پاکستان آٹو شو 2026 کے موقع پر مکمل الیکٹرک گاڑی ’چیری کیو‘ متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے، جسے شہری سفر اور روزمرہ آمدورفت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق گاڑی کی قیمت کا اعلان 18 ستمبر کو پاکستان آٹو شو کے دوران کیا جائے گا، جبکہ اسی روز اس کی بکنگ بھی شروع کردی جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ چیری کیو کی پاکستان میں آمد سے اس کے الیکٹرک گاڑیوں کے پورٹ فولیو میں مزید وسعت آئے گی، جبکہ یہ پیش رفت ملک میں نئی انرجی وہیکلز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
کمپنی کے مطابق پاکستان میں نئی انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس شعبے میں 392 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی انرجی وہیکلز کا مجموعی آٹوموبائل مارکیٹ میں حصہ تقریباً 15 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
چیری کیو میں 42.7 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب کی گئی ہے، جو این ای ڈی سی سائیکل کے مطابق ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر 400 کلومیٹر تک سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق گاڑی کی توانائی کی کارکردگی 9.4 کلومیٹر فی یونٹ تک ہے۔
الیکٹرک گاڑی میں لیول ٹو ایڈوانسڈ ڈرائیور اسسٹنس سسٹمز بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں 21 معاون فیچرز، آٹومیٹک پارکنگ اسسٹ، 15.6 انچ کی 2.5K ڈسپلے، موبائل کنیکٹیویٹی اور وہیکل ٹو لوڈ کی سہولت شامل ہے۔
کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ سالانہ 20 ہزار کلومیٹر سفر کرنے والی روایتی پیٹرول گاڑی پر تقریباً 4 لاکھ 88 ہزار روپے کا ایندھن خرچ ہوتا ہے، جبکہ اضافی شمسی بجلی سے چارج کی جانے والی چیری کیو کے سالانہ توانائی اخراجات تقریباً 30 ہزار روپے تک رہ سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق پاکستان نے 2024 میں تقریباً 17 گیگا واٹ شمسی فوٹو وولٹک صلاحیت درآمد کی، جس کے باعث ملک میں گھروں کی چھتوں پر سولر سسٹمز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گھرانے اضافی پیدا ہونے والی شمسی بجلی کو گرڈ میں واپس بھیجنے کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے استعمال کرکے توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی لاسکتے ہیں۔
