آج ملک بھر میں یوم بحریہ منایا جارہا ہے وطن کے دفاع میں سمندری حدود کے تحفظ کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے
یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوموں کی پہچان ان کے جغرافیے، حجم یا وسائل سے نہیں بلکہ ان کے عزم و حوصلے اور شجاعت سے ہوتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت پاک بحریہ وسائل کی کمی اور محدود آپریشنل صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم سے بخوبی آگاہ تھی جو ہماری آزادی اور ریاستی استحکام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں بیٹھا تھا۔ ایسے حالات میں محدود وسائل کے باوجود دفاعِ وطن کے غیر متزلزل عزم سے سرشار پاک بحریہ نے اپنے جوانوں میں نہ صرف قربانی، پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کا جذبہ پروان چڑھایا بلکہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جدوجہدبھی جاری رکھی۔اس غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ 8 ستمبر 1965ء کے دوران دیکھنے کو ملا جب پاک بحریہ نے تاریخی آپریشن” سومنات” کے تحت دوارکا میں دشمن کی ساحلی ریڈار تنصیبات کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا۔ یہ آپریشن محض ایک کامیاب بحری کاروائی نہیں بلکہ پاک بحریہ کی جارحانہ صلاحیت، دوراندیش حکمتِ عملی اور ناقابلِ تسخیر جذبے کا عملی ثبوت تھا۔ اس حملے نے دشمن کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو پاش پاش کر دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ عزم و حوصلے سے سرشار ایک باہمت بحری قوت عددی اور مادی وسائل کی کمی کے باوجود فیصلہ کن نتائج حاصل کر سکتی ہے۔آپریشن "سومنات” پاکستان کی تاریخ کا ایک لازوال باب ہے جو اس قوم کے مصمم عزم کی علامت ہے جو اپنی خودمختاری اور دفاع کو درپیش ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ آپریشن” سومنات "میں ثبت ہونے والی شجاعت اور عزم کی یہ میراث آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ اس درخشاں میراث کا اعادہ معرکہء حق کے دوران بھی ہوا، جب پاک بحریہ نے کامیابی سے بھارتی بحریہ کو ہرممکنہ جارحیت سے باز رکھا اور بہترین حکمت ِ عملی کامظاہرہ کیا۔1965 کے دوران استقامت اور حوصلے کی یہ داستان سمندر کی گہرائیوں میں بھی تاریخ ساز رہی جب گہرے سمندروں میں پاک بحریہ کی آبدوز غازی کی ہیبت نے پاکستان کی زیرِ آب دفاعی صلاحیت کی بنیاد مضبوط کی اور ایک مؤثر آبدوز فورس کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔یہ شاندار ورثہ آج ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہنگور کلاس آبدوزوں کی پاک بحریہ میں شمولیت اپنی جدید ٹیکنالوجی اور غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔آج کے جدید دور میں پاک بحریہ نئے جہازوں کی شمولیت کے ساتھ اور بدلتے ہوئے آپریشنل تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ ہم اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی شجاعت، بہادری اور عزم آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ آج ہم پاک بحریہ کے ان بہادر شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بے مثال اور بے لوث قربانیوں نے پاکستان کی بحری سرحدوں کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کو یقینی بنایا۔ ان کی شجاعت آج بھی ہماری راہوں کو منور کیے ہوئے ہے۔غازی سے ہنگور تک، پیغام بالکل واضح ہے۔پاکستان کے دفاع کے لیے شجاعت، عزم اور قربانی کی یہ لازوال روایت ہمیشہ قائم رہے گی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گی اور انہیں پاکستان کے محفوظ، مضبوط اور روشن مستقبل کے لیے مسلسل عزم و حوصلے سے سرشار کرتی رہے گی۔
