زندگی کے سفر میں ہر انسان کو ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا ساتھی جو صرف خوشیوں میں شریک نہ ہو بلکہ ان راتوں کا بھی گواہ بنے، جب نیند فکر کی وجہ سے آنکھوں سے دور ہو، جب دل کسی انجانے خوف کے تلے دبا ہو اور جب انسان اپنے ہی سوالوں کے جواب دینے کے لیے بے بسی کے کٹہرے میں کھڑا ہو۔
ہماری زندگی کی راہیں ہمیشہ ہموار نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو کسی پہاڑی سلسلے کی مانند اوپر نیچے ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ کہیں دھوپ بہت تیز ہوتی ہے، کہیں راستے پتھریلے ہو جاتے ہیں، کہیں منزل قریب دکھائی دے کر اچانک دور ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ایک شخص خاموشی سے ہمارے ساتھ چلتا رہے تو سفرِ زیست کی تھکن کم ہونے لگتی ہے۔ ساتھی وہ نہیں جو صرف ہمارا ہاتھ تھام کر چلتا رہے بلکہ وہ ہے جو ہمارے لڑکھڑاتے، ڈگمگاتے قدموں کو سہارا دے مگر ہمیں کمزور محسوس نہ ہونے دے۔
کبھی کبھی انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ جس کے سامنے آنسو چھپانے کی ضرورت نہ ہو۔ جسے یہ بتانے کی ضرورت نہ پڑے کہ "میں ٹھیک ہوں” کیونکہ وہ چہرہ دیکھ کر ہی جان لیتا ہے کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔!
دنیا میں سب سے مشکل کام شاید یہی ہے کہ انسان اپنے دل کی بات کسی کے سامنے مکمل سچائی سے بیان کر سکے۔ ہم لوگوں سے ملتے ہیں، مسکراتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اپنی کامیابیاں بیان کرتے ہیں مگر اپنے اندر کے خوف، دکھ اور ٹوٹ پھوٹ کو اکثر چھپا لیتے ہیں۔ ایک سچا شریکِ سفر وہ ہوتا ہے جس کے سامنے یہ پردے اٹھ جاتے ہیں۔ وہ ہمسفر ہماری کمزوری دیکھ کر ہمیں چھوڑتا نہیں بلکہ ہمیں سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔
کبھی کبھی ہم کسی شخص کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس کی عادت ہو جاتی ہے، اس کی باتوں کی عادت، اس کے انتظار کی عادت، اس کے ساتھ خاموش بیٹھنے کی عادت۔ پھر ایک دن وہ شخص ہماری زندگی سے دور ہو جاتا ہے اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ بعض لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہمارے اندر ایسی جگہ بنا لیتے ہیں جسے ان کے جانے کے بعد خالی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
وقت گزرتا رہتا ہے مگر کچھ خلا وقت بھی نہیں بھر پاتا۔ ہم سفر کا امتحان بھی شاید یہی ہے کہ خوشی میں ساتھ دینا آسان ہے، کامیابی پر مبارک باد دینا بھی آسان ہے، اچھے دنوں میں محبت کا اظہار کرنا تو بلکل آسان ہے۔ مشکل تو تب ہوتی ہے جب دوسرا شخص شکست خوردہ ہو، پریشان حال ہو، خاموش ہو، چڑچڑا ہو یا زندگی سے تھکا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں اگر ہم اس کا ہاتھ تھام لیں تو شاید یہی محبت کی سب سے سچی شبیہہ ہے۔
محبت صرف خوبصورت الفاظ نہیں ہے بلکہ:
محبت کبھی کسی کے لیے خاموشی سے دعا کرنا ہے۔
کبھی اپنی ناراضگی کو پس پشت ڈال کر اس کا حال پوچھ لینا ہے۔
کبھی اس کی غلطی کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔
کبھی اپنے مصروف دن میں سے چند لمحے اس کے نام کر دینا ہے یا پھر کبھی صرف اتنا کہنا ہے کہ؛ "میں ہوں تمہارے ساتھ، خود کو اکیلا مت سمجھو۔” بظاہر تو یہ چھوٹا سا جملہ ہے لیکن کسی تھکے ہوئے دل کے لیے پوری دنیا سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے اس مصروف دور میں ہمسفر کا تصور بھی بدلتا جا رہا ہے۔ لوگ رشتوں میں محبت سے زیادہ سہولت تلاش کرنے لگے ہیں۔ جب تک دوسرا شخص ہماری خواہشات پوری کرتا رہے، تعلق قائم رہتا ہے۔ جیسے ہی اختلاف، مشکلات یا پھر قربانی کا مرحلہ آتا ہے تو رشتے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ رشتہ دو کامل انسانوں کا نہیں بلکہ دو نامکمل انسانوں کا ساتھ ہے۔ دونوں سے غلطیاں ہوں گی، دونوں کبھی ناراض ہوں گے تو کبھی خاموش رہیں گے۔ کبھی ایک تھکے گا تو دوسرا سنبھالے گا، کبھی دوسرا ٹوٹے گا تو پہلا سہارا بنے گا۔ بس یہی تو بہترین ساتھی کی نشانی ہے۔
ہمیں ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرنا، شکست دینے کی بجائے ساتھ جیتنے کی خواہش کرنا، ایک دوسرے کی خامیوں کو دنیا کے سامنے اچھالنے کے بجائے انہیں پردے میں رکھنے کا ظرف رکھنا اور سب سے بڑھ کر تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کی عزت کرنا کیونکہ محبت وہاں زیادہ دیر قائم رہتی ہے، جہاں عزت زندہ رہتی ہے۔
ہمارے اس سفرِ زیست میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ہمارے ساتھ چلنے کا وعدہ تو کرتے ہیں مگر پہلی آزمائش پر راستہ بدل لیتے ہیں۔ جب حالات اچھے ہوں تو سب اپنے لگتے ہیں لیکن جب وقت مشکل ہو جائے تو رشتوں کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ کون ہمارے ساتھ تھا اور کون صرف ہماری خوشیوں کے ساتھ تھا۔ تکلیف اس بات کی نہیں ہوتی کہ کوئی چلا گیا بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ جسے ہم نے اپنا سمجھا، وہ ہمیں کبھی اپنا سمجھتا ہی نہیں تھا۔ ایسے لوگوں کی جدائی تکلیف دیتی ہے مگر ان کی یاد ہمیشہ ایک خاموش سبق بن کر ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ ایسے لوگ بھی ہمارے طویل سفر کے مختصر ہمسفر ہوتے ہیں۔
زندگی کا ہر رشتہ دائمی نہیں ہوتا مگر ہر رشتہ بے معنی بھی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہمیں منزل تک پہنچانے نہیں، بلکہ راستہ سمجھانے آتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم نے پوری زندگی تلاش کرتے رہتے ہیں۔
ایک ایسا ساتھی جو ہماری خاموشی کو سمجھ سکے، ہماری خوشی میں دل سے خوش ہو، ہمارے دکھ میں ہمارے قریب رہے، ہماری کامیابی سے حسد نہ کرے، ہماری ناکامی پر ہمیں طعنہ نہ دے اور ہماری غیر موجودگی میں بھی ہماری عزت کی حفاظت کرے۔ ایسا شخص مل جائے تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ اس کی دل و جان سے قدر کریں۔ کیونکہ دنیا میں خوبصورت چہرے بہت ہیں، ذہین لوگ بہت ہیں، کامیاب لوگ بہت ہیں مگر مخلص دل بہت کم ہیں اور مخلص ہمسفر تو اس سے بھی کم۔
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں ایسا ساتھی مل جائے جو راستے کی دھوپ میں سایہ بنے، اندھیری رات میں چراغ بنے، شکست کے لمحے میں حوصلہ بنے اور خوشی کے لمحے میں مسکراہٹ بن کر ساتھ رہے۔ ایسے لوگوں کی خدارا دل سے قدر کریں۔ انہیں بار بار یہ ثابت کرنے پر مجبور نہ کیجیے کہ وہ آپ کے ساتھ ہے۔
ان کے احساسات کو معمولی نہ سمجھیے۔
ان کی خاموشی کو انا نہ سمجھیے۔
ان کی محبت کو کمزوری نہ سمجھیں کیونکہ بعض لوگ بہت کچھ کہہ کر نہیں، بہت کچھ برداشت کرکے محبت کرتے ہیں اور جب ایسے لوگ خاموشی سے دور ہو جائیں تو ان کی جگہ کوئی دوسرا شخص آسانی سے نہیں لے پاتا۔
شاید زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی بھی یہی ہے کہ جب دنیا ہمیں سمجھنے سے انکار کر دے، تب بھی کوئی ایک شخص ایسا موجود ہو جو ہمیں دیکھ کر کہے؛
"میں تمہیں سمجھتا ہوں اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔”
احمد فراز کا ایک شعر جو میرے دل کے بہت قریب محسوس ہوتا ہے کہ:
ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
