Baaghi TV

ہم آن لائن ہیں، مگر ایک دوسرے سے کتنے دور ،تحریر: طاہر محمود

رابطوں کے عہد میں تنہائی کا نیا المیہ

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دنیا ہماری انگلیوں کی جنبش پر سمٹ آئی ہے۔ چند لمحوں میں پیغام ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر لیتا ہے، ایک تصویر پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے اور ویڈیو کال کے ذریعے بظاہر فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔ مگر اس حیران کن ترقی کے درمیان ایک سوال مسلسل ہمارا تعاقب کر رہا ہے: کیا ہم واقعی ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں؟

شاید حقیقت اس کے برعکس ہے۔

آج ہماری موبائل فون کی رابطہ فہرست سینکڑوں ناموں سے بھری ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست اور فالوورز موجود ہیں، مگر دل کی بات سننے والا، خاموشی کو سمجھنے والا اور مشکل وقت میں کندھا فراہم کرنے والا شخص کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم دنیا سے مسلسل رابطے میں ہیں، لیکن اپنے قریب بیٹھے انسان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

ہم نے رابطے کو تعلق سمجھ لیا ہے۔

سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع تو دے دیا، مگر اپنی زندگی میں موجود لوگوں کو وقت دینے کی عادت چھین لی۔ ہم کسی کی تصویر پر چند سیکنڈ میں "لائک” کر دیتے ہیں، مگر کسی عزیز کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔

ہم نے "Seen” کو اہم بنا لیا، مگر انسان کو دیکھنا بھول گئے۔

یہ ہمارے عہد کا ایک عجیب المیہ ہے کہ ایک ہی گھر میں بیٹھے افراد اپنی اپنی اسکرینوں میں مصروف رہتے ہیں۔ دسترخوان موجود ہے مگر گفتگو کم ہے، گھر آباد ہیں مگر محفلیں ویران ہوتی جا رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سہولت ہماری ضرورت سے بڑھ کر ہماری عادت اور پھر ہماری زندگی کا مرکز بن جائے۔

مصنوعی ذہانت انسان کے لیے حیرت انگیز امکانات پیدا کر رہی ہے۔ یہ معلومات فراہم کر سکتی ہے، تحریر بہتر بنا سکتی ہے، مشکل کام آسان کر سکتی ہے اور وقت بچا سکتی ہے۔ مگر کیا یہ ماں کی آنکھ میں چھپی پریشانی پڑھ سکتی ہے؟ کیا یہ باپ کی خاموشی میں چھپی فکر سمجھ سکتی ہے؟ کیا یہ دوست کے کندھے پر رکھا ہاتھ بن سکتی ہے؟

نہیں۔

کیونکہ انسان صرف معلومات کا مجموعہ نہیں، احساس کا نام بھی ہے۔

ہمیں ٹیکنالوجی سے دور ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ موبائل ہمارے ہاتھ میں رہے، دل میں نہیں۔ سوشل میڈیا ہماری آواز بنے، ہماری شناخت نہیں۔ مصنوعی ذہانت ہماری معاون بنے، انسانی احساس کا متبادل نہیں۔

ہمیں اپنے گھروں میں دوبارہ گفتگو کی روایت زندہ کرنا ہوگی۔ والدین کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، بچوں کی بات سننا ہوگی، دوستوں سے ملاقات کرنی ہوگی اور ایسے انسان کے پاس چند لمحے خاموش بیٹھنا ہوگا جو شاید لفظوں میں اپنا دکھ بیان نہ کر پا رہا ہو۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کو مشورہ نہیں چاہیے ہوتا،
صرف کوئی سننے والا چاہیے ہوتا ہے۔

دنیا آنے والے وقت میں مزید جدید ہوگی۔ مصنوعی ذہانت مزید طاقتور ہوگی، رابطے مزید تیز ہوں گے اور ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا مزید بڑا حصہ بن جائے گی۔ مگر اس سب کے باوجود ہمیں ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مشینیں ذہین ہو سکتی ہیں، مگر انسان کو انسان ہی رہنا ہوگا۔

آخرکار کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے کتنے فالوورز تھے، کتنے رابطے تھے یا ہماری پوسٹ کو کتنے لوگوں نے پسند کیا۔

اصل کامیابی یہ ہوگی کہ جب ہمارے آس پاس کوئی انسان خاموشی سے ٹوٹ رہا تھا تو ہم نے اسے محسوس کیا یا نہیں۔

دنیا سے جڑنا آسان ہے،
مگر کسی انسان کے دل سے جڑنا آج بھی سب سے بڑا ہنر ہے۔

More posts