Baaghi TV

ریونیو دفتر گوجرخان سائلین کے لیے اذیت گاہ بن گیا، عملہ مبینہ طور پر غائب، شہری خوار

مہنگائی میں بھاری کرائے دے کر آنے والے سائلین دفاتر کے چکر کاٹ کر خالی ہاتھ لوٹنے لگے
نائب تحصیلدار کی مبینہ مسلسل غیرحاضری، پٹواریوں کی عدم دستیابی کی شکایات کمشنر و ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ
گوجر خان (قمرشہزاد) وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شہریوں کو بنیادی سہولیات ایک چھت تلے فراہم کرنے اور سرکاری اداروں میں عوام کو ریلیف دینے کے ویژن کے برعکس گوجر خان میں محکمہ ریونیو کی مبینہ ناقص کارکردگی نے سائلین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہری حلقوں نے محکمہ ریونیو کے معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس کمر توڑ دور میں غریب شہری بھاری کرائے خرچ کرکے اپنے جائز کاموں کے لیے سرکاری دفاتر کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں متعلقہ عملہ دستیاب نہ ہو تو سائلین کے لیے یہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ گھر کے محدود بجٹ پر ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔ شہریوں کے مطابق سائلین صبح سویرے دور دراز علاقوں سے گوجر خان پہنچتے، گھنٹوں دفاتر کے باہر متعلقہ اہلکاروں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور پورا دن سرکاری دفتر کے چکر کاٹنے کے بعد بھی کام نہ ہونے پر مایوسی، خالی جیب اور ناامیدی کے ساتھ واپس گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک معمولی ریونیو کام کے لیے بار بار سفر کرنا اس مہنگائی میں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ شہری حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نائب تحصیلدار بھی مبینہ طور پر کئی روز سے دفتر میں دستیاب نہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق متعدد پٹواریوں کی بھی اپنے متعلقہ دفاتر میں عدم موجودگی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث ریونیو سے متعلقہ معاملات کے لیے آنے والے شہری دربدر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر متعلقہ افسر یا اہلکار دستیاب نہیں تو سائلین کے جائز کام کون کرے گا اور ان کے بار بار لگنے والے کرایوں، ضائع ہونے والے وقت اور ذہنی اذیت کا ازالہ کون کرے گا؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محکمہ ریونیو گوجر خان کی صورتحال کا فوری جائزہ لیں، دفاتر میں افسران و عملے کی حاضری یقینی بنائیں اور سائلین کے لیے مؤثر متبادل انتظام کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نائب تحصیلدار کسی وجہ سے دفتر میں فرائض انجام نہیں دے پا رہے تو کسی متبادل افسر کو فوری طور پر ذمہ داری سونپی جائے تاکہ ایک افسر کی عدم موجودگی کی سزا پوری تحصیل کے شہریوں کو نہ بھگتنا پڑے۔ شہری حلقوں نے واضح کیا کہ سرکاری دفتر عوام کی خدمت کے لیے ہوتا ہے، عوام کو دفتر کے چکر لگوانے، کرائے خرچ کروانے اور پورا دن انتظار کے بعد خالی ہاتھ واپس بھیجنے کے لیے نہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی سہولت کے ویژن کو عملی شکل دینے کے لیے گوجر خان کے ریونیو دفاتر میں فوری اصلاح اور جوابدہی ناگزیر ہے۔


کمپیوٹرائز آراضی ریکارڈ میں خسرہ نمبروں کا بکھراؤ اور ڈیٹا میپنگ کا سنگین تضاد، شہری پریشان
وزیراعلیٰ پنجاب کی عوام دوست ریونیو پالیسی کو فیلڈ پٹوار عملے کی مبینہ غفلت سے سبوتاژ کرنے کا انکشاف
انفرادی فرد میں خانہ ملکیت غائب رکھنے اور بار بار فردِ بدر کے نام پر چکر لگوانے کے خلاف نوٹس کا مطالبہ

گوجرخان (قمرشہزاد) وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے آراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے دعووں کو فیلڈ پٹوار عملے کی مبینہ بدنیتی اور غفلت نے شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث انفرادی فرد کے پرنٹ آؤٹس میں خانہ ملکیت غائب ہونے اور خسرہ نمبروں کے شدید بکھراؤ سے شہریوں کی اربوں روپے کی جائیدادیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹوار عملہ مبینہ طور پر جان بوجھ کر کمپیوٹر ریکارڈ میں ایسی تکنیکی خامیاں اور ناموں کی غلطیاں چھوڑ دیتا ہے تاکہ شہری بار بار ‘فردِ بدر’ بنوانے کے لیے پٹوار خانوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب حکومت پورا نظام کمپیوٹرائزڈ کر رہی ہے تو ڈیٹا انٹری میں ریاضی کی ترتیب کے برعکس بڑے خسرہ نمبر پہلے صفحات پر کیوں آ جاتے ہیں، جبکہ موقع پر ایک ہی جگہ اکٹھے جڑے ہوئے نمبر اور دہائیوں پرانے تبادلے کے خسرہ نمبرات الگ الگ کھتونیوں میں بکھیر دیے گئے ہیں۔ اس تکنیکی غفلت کے باعث جب شہری اپنے مخصوص رقبے کی انفرادی فرد حاصل کرتے ہیں، تو کالم نمبر 4 خانہ ملکیت بالکل خالی پرنٹ ہوتا ہے اور حقیقی مالکان کا کوئی نام یا حوالہ ظاہر ہی نہیں ہوتا۔ دوسری جانب پٹوار عملے کی جانب سے یہ کہہ کر روایتی طور پر ٹال مٹول کیا جا رہا ہے کہ مفصل فرد کے پہلے صفحات پر مالکان کے نام آ چکے ہیں اس لیے اگلے صفحات پر خانہ ملکیت کا خالی آنا کوئی بڑی بات نہیں، جسے قانونی ماہرین نے مروجہ قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، یہ سنگین تکنیکی غلطی دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 24 تحفظِ جائیداد، لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشن 39 مکمل ریکارڈ کا اصول جس کی رو سے کوئی بھی زمین بغیر مالک کی لنکنگ کے لاوارث نہیں رہ سکتی، اور سیکشن 41 اے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کا مینوئل ریکارڈ کے عین مطابق ہونا کی کھلی خلاف ورزی ہے، لہذا حکامِ بالا اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کو پٹوار عملے کے ان من گھڑت بہانوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شہریوں کی داد رسی کرنی چاہیے اور اراضی ریکارڈ سنٹر کو ڈیٹا بیس کی فوری درستگی کے احکامات جاری کرنے چاہئیں تاکہ ریکارڈ کو موقع کے مطابق یکجا کر کے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

More posts