Baaghi TV

وزیراعظم سے کاروباری شخصیات کی ملاقات، توانائی لاگت میں کمی اہم ترجیح قرار

وزیراعظم شہباز شریف سے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، جس میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ملاقات میں میاں منشا، عارف حبیب، ثاقب شیرازی، عاطف باجوہ، محمد علی اور مصدق ذوالقرنین سمیت معروف کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔ وفد میں عمر سعید، صمد داؤد، اشرف موکاتی، شاہد صورتی، شہزاد اصغر، شہزاد سلیم، آصف پیر اور دیگر کاروباری رہنما بھی شامل تھے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز اور مسائل سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور صنعت و تجارت کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کررہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی متعلقہ حکام کو ہدایت بھی کردی۔شہباز شریف نے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کا دائرہ کار مزید مؤثر بنانے کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو آسان اور سہل پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جبکہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی ایک بڑا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے گزشتہ مالی سال کے دوران 800 ارب روپے اکٹھے کیے۔ وزیراعظم کے مطابق معاشی ٹیم کی کوششوں کے نتیجے میں ملک کے میکرو اکنامک حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر مزید بہتری کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ صنعتوں کو مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔

ملاقات کے دوران وفد کو ملکی معیشت بہتر بنانے، کاروبار، تجارت اور صنعت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر پورٹ چارجز میں کمی کے ساتھ آپریشنل استعداد میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے ایم-10 کی اپ گریڈیشن جاری ہے، جبکہ ایم-13 کھاریاں، راولپنڈی کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہوگا۔ ریلوے کے انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن سے تجارتی سامان کی ترسیل بھی مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

ملاقات میں کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں نے ملک میں میکرو اکنامک استحکام کو سراہتے ہوئے حکومتی معاشی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں تعمیری کردار کو بھی سراہا۔شرکاء نے حکومت کی نجکاری اور ڈی ریگولیشن پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کاروبار اور صنعت کے شعبوں کو درپیش مختلف مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

More posts