اسلام آباد ہائیکورٹ میں جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے متاثرین اور شہداء کے لواحقین کو معاوضے کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں ڈپٹی کمشنر آفس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے الگ سے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے محمد آصف گجر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ حکام کے مطابق ترلائی امام بارگاہ دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں میں معاوضے کے چیکس تقسیم کیے گئے تھے، جبکہ چیف کمشنر آفس کو خط لکھ کر جوڈیشل کمپلیکس حملے کے متاثرین کے لیے فنڈز مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکیل تصدق حنیف نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دوبارہ جواب جمع کرایا گیا ہے کہ معاوضے کی ادائیگی کے لیے فنڈز موجود نہیں۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکام کے پاس دیگر اخراجات کے لیے رقم موجود ہے لیکن شہداء کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔
اس موقع پر اسٹیٹ کونسل نے عدالت کو بتایا کہ ترلائی امام بارگاہ دھماکے کے متاثرین کو وزارت داخلہ سے فنڈز ملنے کے بعد معاوضہ ادا کیا گیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے سیکرٹری داخلہ کو طلب کرنے کا سوچ رہے تھے، تاہم فی الحال جوائنٹ سیکرٹری ایڈمن آئی سی ٹی کو طلب کیا جاتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ افسر کو 15 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
