Baaghi TV

قرآن ایک مکمل شفا،تحریر: محمد عثمان

آج کا انسان مسائل اور آزمائشوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کی زندگی پریشانیوں اور الجھنوں کا مجموعہ ہے۔ کبھی دل بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے تو کبھی ذہن اضطراب کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ کبھی مایوسی اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور کبھی گناہوں کا بوجھ اس کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں سائنسی ترقی، مادی آسائشوں اور ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز عروج کے باوجود انسان کے دل کی ویرانی کم نہیں ہو سکی۔ سکون کی تلاش میں وہ دنیا بھر میں مارا مارا پھرتا ہے، مگر حقیقی اطمینان کی دولت پھر بھی اس کی دسترس سے باہر ہے۔ ایسے میں جب چہار جانب سے مایوسی اور نا امیدی کے اندھیرے ہمیں اپنی شناخت بھلا رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہمارے پاس موجود ہے جو ہر ظاہری و باطنی بیماری کا علاج اور ہر پریشانی کا مداوا ہے۔ وہ بے مثل و لازوال نعمت قرآنِ مجید ہے۔
قرآن حکیم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا سر چشمہ، رحمت و سکینت، مکمل ضابطہِ حیات، تکمیلِ انسانیت کا ذریعہ اور کامل شفا بنا کر اتارا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ”اور اتارتے ہیں ہم قرآن میں (وہ چیز) جو ہے شفا اور رحمت مؤمنین کے لیے۔“

قارئین کرام!
سورۃ بنی اسرائیل کی آیت مبارکہ کا یہ حصہ اس حقیقت کو آشکار کر رہا ہے کہ، قرآن کریم انسان کے روحانی امراض، اخلاقی گراوٹوں، ذہنی پسماندگی کے لیے شفا کا سامان فراہم کرتا ہے اور نفسیاتی الجھنوں اور جذباتی کمزوریوں کے لیے صحت بخش ہے۔ قرآن کریم میں معیشتی و معاشرتی مسائل کا حل اور اکمل تربیتی نظام موجود ہے۔ یہ انسان کو مایوسی سے امید، گم راہی سے ہدایت، بے چینی سے سکون اور تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف فرد کی تربیت کرتی ہے بل کہ معاشرے کی اصلاح اور تشکیل کے لیے بھی جامع اصول عطا کرتی ہے۔
مگر یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، قرآن مجید شفا کیسے ہے؟ کیسے یہ کتاب رحمت کا خزینہ ہے؟ اس کی تعلیمات کیسے انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں؟ کیسے یہ کتاب ہر دور کے لیے رحمت اور راہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن پاک کے معانی میں غور و خوض اور فکر و تدبر کریں۔ اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنائیں۔
آئیے چند حوالوں سے قرآنِ مقدس کی شفا بخش تاثیر کو دیکھتے ہیں!
جب انسان شکوک و شبہات کا شکار ہو کر توحیدِ باری تعالیٰ سے انکار کی کوشش کرتا ہے تو سورۃ اخلاص اس کے یقین کو پختگی اور ایمان کو تقویت بخشتی ہے۔ جب انسان اپنی تخلیق اور خالق کے متعلق ہیجان کا شکار ہوا تو سورۃ العلق اس کی ہدایت کا سامان بن گئی۔ جب انسان ما فوق الفطرت واقعات اور معجزات کے متعلق بدگمان ہونے لگتا ہے تو سورۃ مریم اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔ جب انسان مادی ترقی اور سائنس کی حیرت انگیز ایجادات سے متاثر ہو کر پھسلنے لگا تو سورۃ بنی اسرائیل اس کا سہارا بن گئی۔ جب انسان اجتماعی طور پر معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہوئے تو سورۃ ھود نے انھیں غفلت سے بیدار کیا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوا تو سورۃ الحجرات نے اسے انسانیت کا درس دیا۔ اگر اسے ذہنی پسماندگی کا سامنا ہوا تو سورۃ العصر نے اسے وقت کی قدر، عمل کی اہمیت اور کامیابی کا حقیقی راستہ دکھایا۔ جب انسان ظلم و ناانصافی اور طاقت کے نشے میں مبتلا ہوا تو سورۃ القصص اور سورۃ الفجر نے اسے فرعون اور سرکش اقوام کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے اس کی تربیت کی۔ جب خوف و ہراس اور بھوک نے اسے نڈھال کیا تو سورۃ القریش اس کی ڈھارس بندھانے لگی۔ جب معصیت و سرکشی نے اسے پریشان کیا تو سورۃ الزمر نے رحمتِ الہی کی نوید سنا کر اسے اطمینان بخشا۔

معزز قارئین!
قرآن حکیم کی ہر سورۃ اپنے اندر رحمت و برکت، ہدایت، نصیحت اور شفا کا ”بحرِ بے کراں“ سموئے ہوئے ہے۔ سورۃ یسین دلوں کو فرحت و تازگی بخشتی ہے اور سورۃ الرحمٰن اپنے رب کی نعمتوں کا شعور دیتی ہے۔ بہیقی کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ، سورۃ الواقعہ فاقوں سے بچاتی ہے جب کہ ترمذی کی روایت کے تحت سورۃ الملک بخشش و مغفرت اور عذابِ قبر سے حفاظت کی بشارت سناتی ہے۔ دارمی کی روایت یہ بتاتی ہے کہ، سورۃ الکہف فتنوں کے دور میں انسان کے ایمان و یقین کی روشنی اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔ بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ، قرآن کریم کی ایک آیت… آیت الکرسی اپنے پڑھنے والے کے لیے شیاطین و جنات اور نظرِ بد سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ مرقاۃ میں ہے کہ، سورۃ البقرہ کی تلاوت سے جادو ٹونے کا اثر نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری کی روایت میں معلمِ اعظم اور مفسرِ اولی صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم نے سورۃ الفاتحہ کو ہر مرض سے شفا یابی کا نسخہ بتایا ہے۔ الغرض یہ کہ، قرآن مجید کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب ہے اور اس پر عمل وسیلہِ نجات۔ اس کی آیات میں تدبر ایمان کی مضبوطی اور اس پر تفکر کرنا یقین کے استحکام کی ضمانت ہے۔ قرآن مجید کو سننا انسان کو ڈپریشن اور انگزائٹی سے بچاتا ہے اور اس کے پہلوؤں پر غور کرنا قربِ الہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس ذی احتشام کتاب کے آفاقی منشور، انقلابی پیغام، تحریکی نصب العین اور اس کے عالم گیر و دیر پا اثرات کو دیکھتے ہوئے اور اسلاف کے عمل و کردار کے پیشِ نظر ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمایا تھا:

”وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر“

لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ، اگر کتاب اللہ کی منفرد آیات اور سورتوں میں اس قدر تاثیر ہے تو پھر پوری کتاب… جو اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس میں کیا قوت اور طاقت پوشیدہ ہو گی؟ اگر چہ ہم زبان سے جتنا مرضی چاہیں تلاوت کرتے رہیں اور ورد کرتے جائیں جب تک دل سے عمل نہیں ہو گا تب تک ہماری تلاوت صرف رسمی ہی رہے گی کوئی خاطر خواہ اثر ظاہر نہیں ہو گا۔ فارسی کا ایک شعر ہے:

”تسبیح بر زباں، بر دل گاؤ و خر
ایں چنیں تسبیح کہ، وارد اثر“

ترجمہ: ”تیری زبان پر تو تسبیح ہے مگر دل میں گائے اور گدھے کا خیال ہے تو کیا اس تسبیح کا کوئی اثر ہو گا؟“
تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کی شفا صرف الفاظ کی تلاوت تک محدود نہیں بل کہ اس کے حقیقی اثرات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب انسان اسے سمجھنے، غور کرنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو شخص قرآنِ پاک کو اپنا رہبر بناتا ہے اس کے دل میں یقین کی روشنی، کردار میں پاکیزگی، سوچ میں اعتدال اور زندگی میں مقصدیت جنم لیتی ہے۔ قرآن کریم انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اس کائنات میں بے مقصد نہیں بل کہ ایک عظیم ذمہ داری کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔

محترم قارئین!
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن مجید کے ساتھ اپنا تعلق محض الفاظ تک محدود نہ رکھیں بل کہ اسے اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی نظام میں اس کی تعلیمات کو فروغ دیں۔ جب قرآن ہمارے افکار، اعمال اور معاملات کی بنیاد بن جائے گا تو فرد بھی سنورے گا، معاشرہ بھی نکھرے گا اور امتِ مسلمہ بھی اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکے گی۔
بلاشبہ قرآن مجید ایک مکمل شفا ہے؛ دلوں کی شفا، روحوں کی شفا، فکر و نظر کی شفا اور زندگی کے ہر شعبے کی شفا۔ جو شخص اس چشمہِ ہدایت سے وابستہ ہو جاتا ہے، وہ دنیا میں سکونِ قلب اور آخرت میں کامیابی کی نعمت سے سرفراز ہو جاتا ہے۔ یہی قرآن کا پیغام ہے، یہی اس کی رحمت ہے اور یہی اس کی ابدی ”شفا بخشی“ کا راز ہے۔

ختم شد!

More posts