کبھی ایک وقت تھا جب گھر چھوٹے ہوتے تھے مگر دل بہت بڑے ہوتے تھے۔ ایک ہی صحن میں کئی خاندان بستے تھے، ایک ہی دسترخوان پر بہن بھائی، والدین اور بچے اکٹھے بیٹھتے تھے۔ کسی ایک کے گھر خوشی آتی تو پورا خاندان خوش ہوتا، کسی کی آنکھ میں آنسو آتے تو کئی دل بے چین ہو جاتے, معمولی باتوں پر روٹھنا بھی ہوتا اور چند لمحوں بعد گلے مل کر سب گلے شکوے بھلا بھی دیتے تھے رشتوں میں حساب نہیں ہوتا تھا محبت ہوتی تھی, لفظوں میں مصلحت نہیں، اپنائیت ہوتی تھی۔ پھر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ وہی گھر، وہی رشتے اور وہی خون کے بندھن کمزور ہوتے چلے گئے آج بعض گھروں میں لوگ ایک دوسرے کے قریب رہ کر بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں , ایک چھت کے نیچے رہنے والے دلوں میں فاصلے لیے پھرتے ہیں، بھائی کو بھائی کی بات بری لگتی ہے، بہن کو بہن کی خاموشی کھلتی ہے، والدین اولاد کی مصروفیات میں تنہا ہو جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے اختلافات کا سبب بن جاتی ہیں، سوال یہ ہے کہ خاندان بکھرتے کیوں ہیں؟ کیا صرف حالات ذمہ دار ہیں؟ کیا صرف مہنگائی، مصروفیات اور بدلتے زمانے نے رشتوں کو کمزور کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خاندان صرف حالات کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ رویوں کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں , جہاں برداشت ختم ہو جائے وہاں محبت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی , جہاں انا محبت سے بڑی ہو جائے وہاں رشتے آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتے ہیں خاندان غربت سے کم اور انا سے زیادہ بکھرتے ہیں ایک جملہ دل میں رکھ لیا جاتا ہے ایک شک کو حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے، کسی تیسرے کی بات پر یقین کر لیا جاتا ہے اور اپنے ہی رشتے سے وضاحت مانگنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی یوں ایک معمولی غلط فہمی آہستہ آہستہ ایسی دیوار بن جاتی ہے جس کے دونوں طرف اپنے ہی لوگ کھڑے ہوتے ہیں , بعض اوقات مسئلہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ کسی نے کسی کی بات صحیح طرح نہیں سمجھی, کسی بہن نے بھائی سے شکوہ کیا بھائی نے اسے الزام سمجھ لیا کسی بھائی نے اپنی مجبوری بیان کی بہن نے اسے بے اعتنائی سمجھ لیا میاں بیوی کے درمیان معمولی اختلاف ہوا گھر کے دوسرے افراد نے اسے اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا پھر بات ایک گھر سے نکل کر پورے خاندان تک پہنچ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ لوگ ایک دوسرے کے مخالف بن جاتے ہیں جنہوں نے کبھی ایک دوسرے کے لیے دعائیں مانگی تھیں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا بعض باتیں نظرانداز کرنے سے رشتے بچ جاتے ہیں بعض مواقع پر خاموشی کمزوری نہیں بلکہ دانائی ہوتی ہے اگر گھر کا ایک فرد غصے میں ہے تو دوسرے کو غصے کا جواب غصے سے دینے کے بجائے محبت سے دینا چاہیے، کیونکہ آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جا سکتا آج ہمارے پاس سہولتیں پہلے سے زیادہ ہیں مگر ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہے، موبائل کی اسکرین روشن ہے مگر کئی گھروں کے دل اندھیرے ہیں۔ ہم دور بیٹھے لوگوں سے گھنٹوں بات کر لیتے ہیں مگر ساتھ بیٹھے اپنے والدین، بہن بھائی یا بزرگوں سے دو گھڑی بات کرنے کو وقت نہیں ملتا، ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کبھی کبھی ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے پیغام بھیجنا پسند کرتے ہیں یہ سہولت بظاہر آسان ہے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب خاندان میں کسی ایک فرد کی بات کو ہمیشہ سچ اور دوسرے کی بات کو ہمیشہ غلط سمجھا جائے۔ انصاف کے بغیر گھر میں محبت قائم نہیں رہ سکتی۔ والدین اگر اولاد کے درمیان غیر ضروری فرق کریں تو دلوں میں شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ بہن بھائی اگر جائیداد، پیسوں یا ذاتی مفادات کو محبت پر ترجیح دیں تو وہ چیزیں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر ایک دوسرے کو کھو دیتے ہیں۔ جائیداد کے جھگڑوں نے نہ جانے کتنے خاندان برباد کیے ہیں، چند مرلے زمین، ایک دکان، ایک مکان یا چند لاکھ روپے کے لیے سگے بھائی برسوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ کبھی عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں کبھی ایک دوسرے کے خلاف مقدمات بناتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ جس باپ نے انہیں ایک ساتھ پالا تھا اس کی روح کو اپنے بچوں کی یہ دشمنی کتنی تکلیف دیتی ہوگی۔ بزرگوں کی قدر نہ کرنا بھی خاندانوں کے بکھرنے کی بڑی وجہ ہے، پہلے بزرگ خاندان کے فیصلوں میں رہنمائی کرتے تھے ان کی موجودگی گھر کے لیے سایہ ہوتی تھی آج کئی بزرگ اپنے ہی گھروں میں اجنبی بن جاتے ہیں اولاد کے پاس ان کے لیے وقت نہیں ہوتا لیکن جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کی خالی کرسی، خاموش کمرہ اور پرانی آوازیں یاد آتی ہیں مگر پھر صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ رشتے شیشے کی طرح ہوتے ہیں جو ایک بار ٹوٹ جائیں تو پھر جڑتے نہیں اور اگر جڑ جائیں تو دراڑیں باقی رہتی ہیں۔ اس لیے رشتوں کو ٹوٹنے سے پہلے سنبھال لیجیے اگر کسی سے ناراضیگی ہے تو بات کر لیجیے، اگر کسی نے دل دکھایا ہے تو معافی کا دروازہ بند نہ کیجیے، اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے تو تیسرے شخص کے بجائے براہِ راست اپنے رشتے دار سے بات کیجیے ہو سکتا ہے جس شخص کو آپ قصوروار سمجھ رہے ہوں وہ حقیقت میں بے قصور ہو ، ہمیں اپنے بچوں کو بھی صرف تعلیم اور دولت نہیں رشتوں کی قدر سکھانی ہوگی، انہیں بتانا ہوگا کہ چاچا، تایا، پھوپھی، ماموں، خالہ، بہن، بھائی اور کزن صرف رشتوں کے نام نہیں بلکہ ہماری زندگی کا سرمایہ ہیں، انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ اختلاف ہو سکتا ہے مگر قطع تعلقی نہیں، ناراضیگی ہو سکتی ہے مگر نفرت نہیں ، شکایت ہو سکتی ہے مگر بے عزتی نہیں ، زندگی بہت مختصر ہے ہم کل کے لیے بہت کچھ جمع کرتے رہتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ کل ہمارے پاس ہوگا بھی یا نہیں ، جن لوگوں سے آج ہم ناراض ہیں ممکن ہے کل ان میں سے کوئی ہمارے درمیان نہ ہو پھر ہم اس کے کمرے، تصویر اور یادوں کے سامنے بیٹھ کر سوچیں گے کہ کاش، میں نے ایک بار اسے گلے لگا لیا ہوتا، کاش، میں نے اپنی انا چھوڑ کر اسے فون کر لیا ہوتا، کاش، میں نے وہ چھوٹی سی بات دل پر نہ لی ہوتی۔ خاندان کو جوڑنے کے لیے ہمیشہ بڑے اقدامات کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی ایک فون کال، ایک مسکراہٹ، ایک معافی، ایک گلے ملنا اور ایک جملہ ’’جو ہوا اسے بھول جاؤ‘‘ برسوں کی ناراضیگی ختم کر دیتا ہے، یاد رکھیے، گھر دیواروں سے نہیں، دلوں سے بنتا ہے، دولت گھر کو بڑا بنا سکتی ہے، مگر محبت ہی اسے گھر بناتی ہے۔ اگر دلوں میں محبت، برداشت، احترام اور معافی موجود ہو تو چھوٹا سا گھر بھی جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور اگر دلوں میں نفرت، انا اور شک پیدا ہو جائے تو محل بھی ویران محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے خاندان کو ٹوٹنے سے پہلے بچا لیجیے، اپنے بھائی کو آواز دیجیے، بہن سے حال پوچھ لیجیے، والدین کے پاس بیٹھ جائیے، بچوں کو گلے لگا لیجیے اور جس سے ناراضیگی ہے اس سے بات کر لیجیے ،کیونکہ ایک دن گھر کی دیواریں وہی رہیں گی، دروازے بھی وہی ہوں گے، صحن بھی وہی ہوگا مگر شاید دسترخوان پر وہ لوگ نہیں ہوں گے جنہیں ہم آج معمولی سمجھ کر نظرانداز کر رہے ہیں، تب پچھتاوے کے آنسو ہوں گے یادیں ہوں گی تصویریں ہوں گی مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، رشتے وقت مانگتے ہیں، توجہ مانگتے ہیں، محبت مانگتے ہیں اور سب سے بڑھ کر انہیں ہماری انا سے آزادی چاہیے۔ خاندان بچانا ہے تو پہلے اپنے دل کو بڑا کرنا ہوگا۔
