Baaghi TV

شہدا کی قربانیاں اور ہمارا فرض،تحریر: محمد عثمان

”شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکوٰۃ ہے“

شہدا وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وطن کی ”جغرافیائی اور نظریاتی“ سرحدوں کی خاطر قربانی دے کر قوم کے وقار اور عزت کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہ اپنے دین کی حفاظت اور سر بلندی کے لیے اپنی جانیں دے کر ملت کو استحکام بخشتے ہیں۔ ان کی کٹی گردنیں انسانیت کی ”بقا و سلامتی“ کی ضامن بنتی ہیں۔ شہدا کا لہو آنے والی نسلوں کی آزادی کا سنگِ بنیاد کہلاتا ہے۔ یہ لوگ امن کی بحالی، اقدار کے تحفظ اور روایات کے فروغ کے لیے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ ثقافت اور تہذیب کے مابین ہم آہنگی اور معاشرے میں ”نفاذِ عدل“ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ شہدا… حق کے دیپ اپنے لہو سے جلاتے ہیں۔  وہ ہماری آزاد سانسوں اور سکون کی زندگی کے لیے… اپنے آرام و آسائش، خواہشات و جذبات یہاں تک کہ اپنی زندگی کو بھی قربان کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے کل کی خاطر اپنا آج داؤ پر لگاتے ہیں۔ اگر آج ہم آزادی کے ساتھ بول سکتے ہیں۔ بغیر روک ٹوک کے اپنی ”عبادت و ریاضت“ میں مشغول ہیں۔ کھلے عام اپنے حقوق کے ساتھ زندہ ہیں تو اس کے پیچھے بھی بے شمار ”شہدا“ کا لہو شامل ہے۔

”حق بات پہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زباں میری
اظہارِ حق تو کر جائے گا جو ٹپکے گا لہو میرا“

شہدا… ہر میدان میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے خون میں نہا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ: ”ان کے دلوں میں حب الوطنی، ایمان اور قربانی کا جذبہ کس قدر موجزن تھا..!“ یہی وجہ ہے کہ شہدا زندہ قوموں کا فخر ہوتے ہیں اور ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جاتا ہے۔ شہدا کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اسلام میں شہادت کا بہت بلند مقام بتایا گیا ہے۔ ”کتاب و سنت“ میں شہید کو مردہ نہیں، بل کہ زندہ قرار دیا گیا ہے۔ شہدا کی قربانی ہمارے لیے حق اور سچائی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ان کی زندگیاں ہمیں بہادری، صبر، ایثار اور وفاداری کا سبق دیتی ہیں۔ ماہر القادری کہتے ہیں:

”شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے، بہت شاداب ہوتی ہے“

”جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضا گزرتے ہیں
وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے“

معزز قارئین کرام!
تاریخِ انسانی میں بہت بڑے بڑے جنگی حادثات و واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں ”انبیا و مرسلین علیہم السلام“ اور ان کی پیروی کرنے والے متوالوں نے غلبہِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں؛ لیکن جو مقام و مرتبہ اور جاہ و جلال اسلام نے جہاد اور شہادت کو بخشا ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہی نہیں بل کہ ناممکن ہے۔ جذبہِ حریت اور شوقِ شہادت جو اس ملت کے جوانوں میں ہے اس کی مثال کوئی دوسرا پیش نہیں کر سکتا۔ دودھ پیتے بچوں کو جہاد کی لوریاں سنانا اور شہادت کے سبق پڑھانا اس امت کی ماؤں کا ہی تو شیوہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

”شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نے کشور کشائی“

شہادت کے کچھ اغراض و مقاصد بھی ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس کے بعد ہم فرائض کو بخوبی جان سکیں اور انھیں پورا کرنے میں کامیاب ہوں۔
* شہید کی شہادت کا اوّلین مقصد رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے۔
* شہید اپنے کام کو کمال تک پہنچانے یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان نچھاور کرتا ہے۔
* غلبہِ دین اور اساسِ مذہب کی پختگی بھی انھی مقاصدِ عظیمہ میں شامل ہے۔
* وطن کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر جان دینا۔
* اپنے اہل و عیال، اپنی جان و مال کی حفاظت کرنا بھی شہادت کے مقاصد کا ایک حصہ ہے۔
* اپنے عقیدے کا تحفظ اور فروغِ سنت و شریعت۔

قارئین محترم!
شہدا کی قربانیوں کے بعد ہماری ذمہ داری صرف ان کے نام پر تقریبات منعقد کرنا اور ان کی یاد میں برسیاں منانا ہی نہیں، بل کہ ہماری اصل ذمہ داری ان کے مشن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ ہمارے شہدا نے اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کیں اور ”رزم گاہِ حق و باطل“ میں دشمنانِ اسلام و وطن کے دانت کھٹے کیے۔ بدر و احد سے لے کر حنین و تبوک، یمن و یمامہ سے لے کر یرموک و قادسیہ، آبنائے باسفورس سے لے کر ماورألنھر سے ہوتے ہوئے بغداد و دہلی کی گلیوں میں جس مقصد کی خاطر شہدا نے اپنی جانیں نچھاور کیں اس مقصد کو زندہ رکھنا اور اس پر ”صدقِ دل“ سے کاربند ہونا ہی شہدا سے اصل وفا ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ شاملی اور میسور کے ریگزاروں میں اٹھنے والی چنگاری کو بجھنے نہ دیں اور خود کو ہر طرح کی ذہنی و جسمانی اور فکری و عملی غلامی سے آزاد کریں۔ 13 اگست 1947ء کی رات کو یاد رکھتے ہوئے ہم قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ ملک کے استحکام کے لیے نظامِ خلافتِ راشدہ کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کو قانون و اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہی شہدا کے خون کا حق اور ہمارا فرض ہے۔ اس کے علاوہ شہدا کے خاندانوں کا احترام اور خیال رکھنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا بھی ہمارا قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر ہم شہدا کے مشن سے وفا نہ کر سکیں، ان کی قربانیوں کی لاج نہ رکھ سکیں اور ان کے پیغام کو سمجھ کر آگے نہ بڑھ سکیں تو پھر یقینا شہدا کی روحیں ہم سے نالاں ہوں گی۔ بزبان شاعر:

”شہدا نے پکارا ہے تم کو فردوس کے بالا خانوں سے
ہم راہِ خدا میں کٹ آئے، تمھیں ابھی تک ہے پیار اپنی جانوں سے“

آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ شہدا کسی بھی قوم کا سرمایہ اور فخر ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں ہمیشہ یہ یاد دلاتی رہیں گی کہ آزادی اور امن مفت حاصل نہیں ہوتے، بل کہ اس کے لیے کئی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔
یاد رکھیے! اگر ہم ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں شہدا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے فرائض پوری ایمانداری سے نبھانا ہوں گے۔

”شکوہِ شبِ ظلمت سے کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے“

More posts