ہمارے معاشرے میں دو جملے بڑے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔
عجیب بات یہ ہے کہ دونوں الفاظ جتنے بلند اور مقدس دکھائی دیتے ہیں، عملی زندگی میں اتنے ہی اکثر ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ عورت سے کہا جاتا ہے کہ خاندان کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے، اور مرد سے کہا جاتا ہے کہ گھر کی عزت کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عزت آخر ہے کیا؟ ایک انسان کا کردار، یا دوسرے انسان کے اختیار پر پہرا؟ ہم نے عورت کی عزت کو اس کے لباس، آواز، آمدورفت، دوستوں، ملازمت اور حتیٰ کہ اس کی مسکراہٹ تک سے جوڑ دیا ہے۔ دوسری طرف مرد کی غلطی کو اکثر یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ "لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔” یہی وہ مقام ہے جہاں غیرت، اصول نہیں رہتی بلکہ دوہرے معیار کا نام بن جاتی ہے۔
اگر ایک لڑکی رات کو دیر سے گھر آئے تو سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر گھر کا بیٹا اسی وقت واپس آئے تو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ لڑکی کسی مرد سے بات کرے تو کردار زیرِ بحث آجاتا ہے، مگر لڑکا کئی لڑکیوں سے تعلق رکھے تو دوستوں کی محفل میں اسے کامیاب عاشق سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیسا اخلاقی نظام ہے جس میں گناہ کا معیار جنس کے ساتھ بدل جاتا ہے؟ ہم عورت کو عزت دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اکثر اسے انسان سمجھ کر نہیں بلکہ خاندان کی ملکیت سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔ اس کے فیصلے پر اعتراض، اس کی پسند پر پہرا، اس کے خوابوں پر پابندی اور اس کی زندگی کے فیصلے خاندان کی اجتماعی ملکیت بنا دیے جاتے ہیں۔ پھر اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ سب محبت ہے، حفاظت ہے اور غیرت ہے۔
غیرت اگر واقعی غیرت ہے تو اس کا پہلا تقاضا انصاف ہونا چاہیے جس مرد کو اپنی بہن کے لیے آزادی کا انتخاب خطرناک لگتا ہے، اسے اپنے بیٹے کے لیے بھی وہی اصول مقرر کرنا چاہیے۔ جس باپ کو بیٹی کی دوستی پر تشویش ہوتی ہے، اسے بیٹے کی دوستی پر بھی اتنی ہی تشویش ہونی چاہیے۔ جس شوہر کو بیوی کے لباس پر اعتراض ہے، اسے اپنے کردار اور نگاہ کا حساب بھی دینا چاہیے۔
مسئلہ عورت کے آزاد ہونے سے زیادہ ہمارے اس خوف کا ہے کہ اگر عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق مل گیا تو مرد کی صدیوں پرانی حاکمیت کہاں جائے گی؟ لیکن یہاں ایک دوسرا سوال بھی ضروری ہے۔ کیا آزادی کا مطلب ہر حد سے آزادی ہے؟ ہرگز نہیں۔
عورت ہو یا مرد، آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ اخلاق، وفا، حیا اور کردار کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔ اگر مرد کو اپنی خواہشات کے نام پر ہر آزادی حاصل ہے تو عورت بھی انسان ہے، اور اگر عورت کے لیے اخلاقی حدود ضروری ہیں تو مرد ان حدود سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔
اصل مسئلہ عورت یا مرد نہیں، اصولوں کا غیر مساوی اطلاق ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ سکھانے کے بجائے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟” یہ بھی سکھانا ہوگا کہ "صحیح کیا ہے؟” اور اپنے بیٹوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ "مرد بنو”، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ مردانگی غصے، اختیار اور جبر کا نام نہیں؛ ذمہ داری، ضبطِ نفس اور احترام کا نام بھی ہے۔
عورت کی عزت اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک مرد کی تربیت نہیں ہوگی، اور مرد کی عزت بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک عورت کو محض خاندان کی عزت کا بوجھ سمجھا جاتا رہے۔ شاید ہمیں غیرت کی تعریف دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ غیرت یہ نہیں کہ آپ کسی عورت کو گھر سے باہر نکلنے نہ دیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ کسی پر ظلم نہ ہونے دیں۔ غیرت یہ نہیں کہ آپ کسی کی آواز دبا دیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کو ظلم کا ہتھیار نہ بنائیں۔ اور غیرت یہ بھی نہیں کہ آپ عورت کے کردار کا حساب لیتے پھریں۔ اصل غیرت یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کا حساب خود دے۔
جس دن ہم نے یہ فرق سمجھ لیا، شاید اس دن عورت کو عزت دینے کے لیے اس کی آزادی چھیننے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اور مرد کو غیرت مند ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان پر اختیار جتانے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔
