Baaghi TV

عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟تحریر: کاشف خان

یہ سوال شاید پاکستان کے ہر گھر، ہر گلی اور ہر بازار میں سنائی دیتا ہے کہ عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟ یہ سوال نیا نہیں، کئی دہائیوں سے ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر حکومت آتی ہے تو عوام کو بہتر مستقبل کی امید دلائی جاتی ہے، مہنگائی کم کرنے، روزگار بڑھانے، غربت ختم کرنے اور عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار کی تبدیلی کے باوجود عام شہری کے مسائل وہیں کھڑے نظر آتے ہیں۔

عام آدمی کی خوشحالی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کروڑ پتی بن جائے۔ خوشحالی کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایک مزدور اپنے بچوں کو دو وقت کا باعزت کھانا کھلا سکے، ایک ملازم اپنی تنخواہ میں گھر کا کرایہ، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرسکے، اور ایک نوجوان کو سفارش کے بجائے اپنی قابلیت کی بنیاد پر روزگار مل سکے۔

آج سب سے بڑا مسئلہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ تنخواہ وہی رہتی ہے لیکن بجلی کا بل بڑھ جاتا ہے، راشن مہنگا ہوجاتا ہے، بچوں کی فیس بڑھ جاتی ہے، علاج کے اخراجات کئی گنا ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متوسط طبقہ بھی آہستہ آہستہ معاشی دباؤ کا شکار ہو کر کم آمدن والے طبقے میں شامل ہوتا جارہا ہے۔

دوسری طرف ہمارے معاشرے میں دولت اور سہولیات کی تقسیم بھی ایک بڑا سوال ہے۔ ایک طبقہ ایسی زندگی گزار رہا ہے جہاں مہنگائی محض خبروں کا موضوع ہے، جبکہ دوسرا طبقہ روزانہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آج گھر کا چولہا کیسے جلے گا۔ جب ایک معاشرے میں وسائل رکھنے والوں اور وسائل سے محروم لوگوں کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھتا جائے تو صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بے چینی بھی پیدا ہوتی ہے۔

عام آدمی کو سب سے زیادہ ضرورت مستقل اور باعزت روزگار کی ہے۔ وقتی امداد، راشن اور چند سو یا چند ہزار روپے کی مالی مدد کسی مشکل وقت میں سہارا ضرور بن سکتی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ مستقل حل یہ ہے کہ صنعت چلے، کاروبار بڑھے، کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، مزدور کو بروقت اجرت ملے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

تعلیم اور صحت بھی خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ اگر ایک غریب خاندان کا بچہ اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکے اور بیماری کی صورت میں پورا خاندان قرض لینے پر مجبور ہوجائے تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے اعداد و شمار اس خاندان کے لیے بے معنی ہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جو عام شہری کی زندگی میں محسوس ہو۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ہر حکومت کے دور میں عوام سے مزید قربانی ہی کیوں مانگی جاتی ہے؟ ٹیکس کا بوجھ، مہنگائی اور اخراجات بڑھتے رہیں اور عام آدمی سے کہا جائے کہ مشکل وقت ہے، صبر کریں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل وقت کب ختم ہوگا؟

عام آدمی کو وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسے ایسی پالیسی چاہیے جو پانچ سال بعد نہیں بلکہ آج اس کی زندگی میں بہتری کا آغاز کرے۔ اسے قانون کی یکساں عمل داری، میرٹ، سستی اور معیاری تعلیم، قابلِ رسائی صحت، مناسب اجرت اور محفوظ روزگار چاہیے۔

خوشحال پاکستان صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں بنے گا۔ خوشحال پاکستان اس دن بنے گا جب ایک مزدور اپنے بچے کی فیس ادا کرتے ہوئے پریشان نہ ہو، جب ایک ماں علاج کے لیے پیسے نہ ہونے پر بے بس نہ ہو، جب نوجوان روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھائے اور جب کسی گھر میں مہینے کے آخری دن فاقے کا خوف نہ ہو۔

عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟

اس سوال کا جواب کسی ایک حکومت، ایک وزیر یا ایک بجٹ کے پاس نہیں۔ اس کا جواب ایک ایسی مسلسل، دیانت دار اور عوام دوست حکمتِ عملی میں ہے جس میں ریاست کی ترجیح عام شہری کی زندگی آسان بنانا ہو۔

کیونکہ آخرکار کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہاں کتنے امیر لوگ رہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں کتنے عام لوگ عزت، اطمینان اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

More posts