بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین نے اربوں روپے کی عوامی سرمایہ کاری بچانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکام سے فوری حکومتی مداخلت کی اپیل کردی۔
ملک ریاض حسین کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی املاک کی ضبطی، نیلامی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے باعث ہزاروں پاکستانیوں کی جمع پونجی اور روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست 2025 کے بعد بحریہ ٹاؤن کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات یا حکومتی مداخلت کی یہ چوتھی اپیل ہے۔ تنازعات کو قانونی بنیادوں اور انسانی ہمدردی کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ملک ریاض نے مطالبہ کیا کہ تنازعات کے حتمی فیصلے تک کم قیمت پر ہونے والی نیلامی، املاک کی منتقلی اور قبضے کے عمل کو روکا جائے تاکہ عوام کی سرمایہ کاری کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔بحریہ ٹاؤن کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ شفاف نگرانی کے تحت ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں، جبکہ وصول ہونے والی رقم کا ایک متفقہ حصہ واجبات کی ادائیگی کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔
ملک ریاض نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ عوام کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری، روزگار اور بحریہ ٹاؤن سے وابستہ افراد کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
