برکس ممالک کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے میں غزہ جنگ بندی اور فلسطین کے 2 ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے۔
نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما شریک ہیں اجلاس کا ایک اہم چیلنج ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی تنازع پر پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرکے ایسا متفقہ مؤقف اختیار کرنا تھا جسے دونوں ممالک قبول کرسکیں۔
برکس ممالک کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو سختی سے مسترد کردیا گیا ہےبرکس ممالک نے غزہ میں کسی بھی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدامات کی بھی مخالفت کی ہے۔
اعلامیے میں مقبوضہ بیت المقدس کے تمام مذہبی اور مقدس مقامات کے احترام پر زور دیا گیا ہے، برکس ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد پرعملدرآمد پر زور دیا ہے اعلامیے میں تنازعات کی روک تھام اور ان کی بنیادی وجوہات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی تنازعات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعےحل کیے جائیں۔
برکس رہنماؤں نےجوہری جنگ کے بڑھتے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران جوہری تنصیبات کی حفاظت اور سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا ہے،اس کے علاوہ برکس ممالک نے یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور محصولات میں اضافے پر بھی تنقید کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برکس سربراہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر مذاکرات کاروں نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق کیا، جس میں کسی ایک ملک کا نام لیے بغیر کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ جارحیت کی مذمت کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ برکس ممالک میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، یہ گروپ 2009 میں ایسے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا، جس میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کا نمایاں اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہےبرکس کے رکن ممالک مجموعی طور پر دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی اور عالمی معیشت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
