وہ کوئی عام بلی نہیں، بلکہ ہمارے گھر کا سب سے لاڈلا، سفید و براؤن فر والا شاہی پرشین نژاد "بِلو جوجی” ہے۔ وہ جو اگلے چند دنوں میں اپنی زندگی کے تین سال مکمل کرنے والا ہے، یعنی تین سال سے ہماری خوشیوں اور مسکراہٹوں کا مرکز! پرشین بلیاں اپنی معصومیت اور گھر کے اندر رہنے کی عادت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، شاید اسی لیے آج کا دن ہمارے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔
صبح نہ جانے کب وہ چپکے سے گھر کا کھلا دروازہ دیکھ کر باہر نکل گیا۔ دن ڈھلا، دوپہر گزری اور پھر شام کے سائے گہرے ہونے لگے، لیکن جوجی کا کہیں پتہ نہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دل میں عجیب عجیب سے وسوسے اور خوفناک خیالات پنپنے لگے تھے۔ "وہ تو باہر کی دنیا سے واقف ہی نہیں، کسی دوسری گلی کے کتے یا بلی نے اسے نقصان نہ پہنچایا ہو؟” ان سوالوں نے جیسے سانسیں روک دی تھیں۔
آخر کار، ہم سب اسے ڈھونڈنے باہر نکلے۔ محلے کا کونا کونا چھان مارا، اور پھر قدم ایک سنسان گلی کی جھاڑیوں کے پاس جا کر رک گئے۔ دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ میں نے دھیمی اور پیار بھری آواز میں پکارا: "جوجی۔۔۔ جوجی۔۔۔”
میری آواز سنتے ہی جھاڑیوں کے بیچ سے ایک ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی اور جوجی کی ایک جھلک نظر آئی۔ وہ ایک ڈرا ہوا، سہما ہوا بچہ بن کر وہاں چھپا بیٹھا تھا، باہر کے ماحول نے اس نازک پرشین بچے کو بری طرح ڈرا دیا تھا۔ وہ خوف کے مارے باہر ہی نہیں نکل رہا تھا۔ آخر کار، ایک ڈنڈے کی مدد سے جھاڑیوں کو ہٹا کر اسے پیار سے باہر نکالا اور گود میں اٹھا کر گھر لے آئے۔
گھر آتے ہی جوجی سیدھا پانی کے پیالے کی طرف لپکا، جیسے صدیوں کا پیاسا ہو۔ پانی پی کر جب اس نے چکن کھایا، تو اس کی جان میں جان آئی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ اپنی مخصوص آواز میں "میاؤں میاؤں” کرتا ہوا دوبارہ کھانے کے برتن کے پاس آ کھڑا ہوا، جیسے کہہ رہا ہو کہ پورے دن کا کوٹہ تو اب پورا کرنا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد، وہ اپنی تمام تھکن اور خوف بھلا کر گہری اور پرسکون نیند سو گیا، اور ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ ہمارا تین سال کا ساتھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔
