Baaghi TV

ایران کی عالمی جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کی دھمکی

iran

اقوامِ متحدہ کے ایٹمی انرجی کمیشن کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد تہران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی اور ایٹمی کشیدگی انتہائی تشویشناک شکل اختیار کر گئی ہے-

ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق 25 سال میں پہلی بار پاس ہونے والی اس قرارداد کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی سے الگ ہونا اور ملک کے ایٹمی نظریے پر نظرِ ثانی کرنا ممکنہ آپشنز ہیں،این پی ٹی کو چھوڑنے اور ایٹمی پالیسی بدلنے سے امریکا اور اس کے حواریوں کو ان کی صحیح جگہ دکھائی جا سکتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمدرضا محسنی ثانی نے بھی واضح کیا کہ تہران اب این پی ٹی کو اپنے لیے پابندی نہیں سمجھتا، چاہے وہ اس میں رہے یا اس سے نکل جائے،تاہم ایرانی دفترِ خارجہ کی جانب سے این پی ٹی سے باقاعدہ الگ ہونے کا کوئی رسمی اعلان واشنگٹن یا ماسکو کو نہیں بھیجا گیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ عالمی ایٹمی ایجنسی کے سیاسی اقدامات ممالک کو این پی ٹی سے نکلنے پر مجبور کریں گے۔

اس کے برعکس اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ موجودہ صورتِ حال امریکا اور اسرائیل کی مجرمانہ جارحیت کا نتیجہ ہے اور امریکا کا ایران کو جھکانے کا خام خیال کبھی پورا نہیں ہوگا۔

عالمی ایٹمی ایجنسی کے 32 رکنی بورڈ میں 23 ممالک نے اس یورپی و امریکی قرار داد کی حمایت کی جبکہ روس، چین اور نائیجر نے اس کی مخالفت کی،یورپی یونین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ انتہائی اہم اور فوری ہے کہ ایران اپنے ایٹمی مواد کی مقدار اور جگہ کے بارے میں تصدیق شدہ معلومات فراہم کرے اور ایجنسی کو تمام جوہری تنصیبات کے معائنہ کی اجازت دے۔

اگرچہ بین الاقوامی برادری نے ایران کی عدم تعمیل پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم سلامتی کونسل میں روس اور چین کے پاس ویٹو پاور ہونے کی وجہ سے ایران کے خلاف فوری عملی کارروائی کے امکانات انتہائی محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

More posts