Baaghi TV

میرا تعارف،سید ساجد علی شاہ

میرا نام سید ساجد علی شاہ ہے اور میرا تعلق ضلع رحیم یار خان کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے وہ گاؤں جہاں آج بھی زندگی کی بہت سی بنیادی سہولیات محدود ہیں، مگر اسی مٹی نے مجھے خواب دیکھنا، مشکلات سے لڑنا اور اپنے حصے کا چراغ جلانا سکھایا، میرا تعلق کسی بڑے شہر، ادبی خاندان یا وسائل سے مالا مال ماحول سے نہیں تھا، میرے پاس اگر کوئی سرمایہ تھا تو وہ شوق، جستجو، کتاب سے محبت اور قلم کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی خواہش تھی، میری تعلیم گریجویشن تک ہے، لیکن میرے لیے اصل درس گاہ زندگی، کتابیں، اخبارات اور اہلِ قلم کی صحبت رہی، ایک زمانہ تھا جب سائیکل ہی سفر کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، میں اپنے گاؤں سے تقریباً تیس کلومیٹر دور شہر جایا کرتا تھا تاکہ ادب سیکھ سکوں، اہلِ علم سے مل سکوں اور لکھنے کے فن کو سمجھ سکوں، آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ سفر صرف تیس کلومیٹر کا نہیں تھا بلکہ یہ میرے ادبی سفر کی بنیاد رکھنے والا سفر تھا، راستے طویل تھے، وسائل محدود تھے، مگر دل میں کچھ کر گزرنے کا عزم موجود تھا ، وہ دور بھی عجیب تھا مخلص لوگ زیادہ تھے، بے لوث محبتیں عام تھیں، تعلقات میں خلوص تھا اور ادب میں آگے بڑھنے کی خواہش تھی، مگر لالچ اور طمع کا عنصر بہت کم دکھائی دیتا تھا ، لوگ ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور کسی کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے میں نے بھی اپنے سفر میں ایسے بہت سے مخلص لوگوں سے سیکھا جنہوں نے میرے قلم کو راستہ دکھایا اور مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

میرا باقاعدہ ادبی سفر زمانہ طالب علمی میں 1996 سے شروع ہوا، اس وقت شاید مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ قلم سے بننے والا یہ رشتہ ایک دن زندگی کا مستقل حصہ بن جائے گا۔ میری پہلی تحریر بچوں کے معروف میگزین تعلیم و تربیت میں شائع ہوئی اس تحریر کی اشاعت میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں تھی۔ جب پہلی مرتبہ اپنا نام اور اپنی تحریر چھپی ہوئی دیکھی تو جو خوشی محسوس ہوئی، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ، یہی وہ لمحہ تھا جس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر انسان مسلسل محنت کرے تو اس کی آواز ایک دن لوگوں تک ضرور پہنچتی ہے۔ سن 2000 میں، میں نے اپنے شہر کے ایک ہفت روزہ اخبار عباس ٹائم سے صحافتی سفر کا آغاز کیا، صحافت میرے لیے صرف روزگار یا شہرت کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ معاشرے کو سمجھنے، مسائل کو دیکھنے اور لوگوں کی آواز بننے کا وسیلہ تھی، میں نے کوشش کی کہ جو کچھ دیکھوں، اسے اپنی بساط کے مطابق قلم کے ذریعے بیان کروں، ابتدا میں مشکلات بھی آئیں، کئی مرتبہ تحریر مسترد ہوئی، کبھی حوصلہ ٹوٹا، مگر قلم کا رشتہ نہیں ٹوٹا۔ سن 2001 میں، میں نے باقاعدہ طور پر "دل کی بات” کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کیا اسی سلسلے میں میرا پہلا کالم روزنامہ خبریں میں شائع ہوا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہم تھا، کیونکہ جس اخبار کو میں ایک عام قاری کی حیثیت سے پڑھا کرتا تھا اسی کے صفحات پر میری تحریر جگہ بنا چکی تھی۔ "دل کی بات” صرف ایک کالم کا عنوان نہیں رہا بلکہ رفتہ رفتہ میری قلمی شناخت بن گیا۔ وقت گزرتا گیا، حالات بدلتے گئے، اخبارات اور رسائل کے صفحات بدلتے رہے، لیکن قلم سے میرا تعلق قائم رہا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے سات ہزار سے زائد کالم مختلف اخبارات، رسائل، جرائد اور میگزین میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تین سو کے قریب کہانیاں اور افسانے بھی قارئین تک پہنچ چکے ہیں۔ میرے لیے یہ اعداد صرف تعداد نہیں بلکہ میری زندگی کے وہ ہزاروں دن اور رات ہیں جو میں نے قلم، کاغذ، کتاب اور مطالعے کے ساتھ گزارے۔ میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ تحریر عام قاری کی سمجھ میں آنے والی ہو، مشکل الفاظ کے بجائے سادہ زبان میں بات کی جائے کیونکہ میرے نزدیک لکھاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنے مشکل الفاظ لکھے گئے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے دلوں تک بات پہنچی۔

میں نے دو کتابیں لکھی ہیں ایک ’’دل کی بات‘‘ اور دوسری ’’پاکستان میں کیا ہو رہا ہے‘‘ ہیں۔ ’’ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری تحریر میں معاشرے کے مسائل، انسانی جذبات، رشتوں کی اہمیت، اخلاقیات، محبت، درد، خوشی اور زندگی کے مختلف رنگ نمایاں ہوں۔میرے ادبی سفر میں مجھے مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں، مذہبی و سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے مختلف اوقات میں ایوارڈز، شیلڈز، میڈلز اور اسناد سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزازات میرے لیے یقیناً باعثِ خوشی ہیں لیکن میں انہیں منزل نہیں سمجھتا میرے نزدیک اصل اعزاز یہ ہے کہ کوئی قاری میری تحریر پڑھ کر سوچنے پر مجبور ہو، کسی دکھی انسان کو حوصلہ ملے، کسی نوجوان کو قلم اٹھانے کی ترغیب ملے یا معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کی بنیاد پڑے۔میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا ہے کہ قلم صرف الفاظ لکھنے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ لکھاری کے الفاظ کسی کے دل کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں، کسی کے لیے امید بن سکتے ہیں اور کسی کے لیے مایوسی کا سبب بھی۔ اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ قلم کو ذاتی مفاد، لالچ اور نمود و نمائش کے بجائے اصلاح، آگاہی اور مثبت سوچ کے لیے استعمال کیا جائے۔ آج جب میں اپنے ماضی کو دیکھتا ہوں تو گاؤں کی وہ کچی راہیں، سائیکل پر تیس کلومیٹر کا سفر، کتابوں کی تلاش، اہلِ قلم کی صحبت، پہلی شائع ہونے والی تحریر، عباس ٹائم سے صحافت کا آغاز اور پھر روزنامہ خبریں میں "دل کی بات” کا پہلا کالم، سب ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اس وقت وسائل کی کمی سے گھبرا کر رک جاتا تو شاید یہ سفر یہاں تک نہ پہنچتا۔ میرا یقین ہے کہ انسان کے پاس اگر خلوصِ نیت، مسلسل محنت اور اپنے مقصد سے وفاداری ہو تو مشکلات اس کا راستہ روک نہیں سکتیں۔ میرا تعلق ایک پسماندہ گاؤں سے ضرور ہے، مگر میرے خواب ہمیشہ وسیع رہے، میں آج بھی خود کو سیکھنے والا ایک طالب علم سمجھتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک قلم کار کی تعلیم کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ سفر ابھی جاری ہے ، قلم آج بھی ہاتھ میں ہے "دل کی بات” آج بھی دل میں ہے اور کوشش آج بھی یہی ہے کہ جو بات دل سے نکلے، وہ خلوص کے ساتھ قارئین کے دل تک پہنچے۔ اگر میری تحریروں سے کسی ایک انسان کو بھی فائدہ پہنچا، کسی ایک نوجوان کو لکھنے کا حوصلہ ملا یا کسی ایک دل کو تسلی نصیب ہوئی تو میں سمجھوں گا کہ میرے قلم کا سفر رائیگاں نہیں گیا۔

More posts