ملیکا شیراوت نے 2000 کی دہائی میں بالی ووڈ میں اپنی بے باک شخصیت اور غیر روایتی کرداروں کے باعث خاصی شہرت حاصل کی۔ ان کے فلمی انتخاب، اسکرین پر رومانوی مناظر اور ریڈ کارپٹ پر منفرد انداز اکثر میڈیا اور فلمی حلقوں میں بحث کا موضوع بنتے رہے۔ خاص طور پر فلم ’مرڈر‘ (2004) نے انہیں بالی ووڈ کی نمایاں اور متنازع اداکاراؤں میں شامل کر دیا۔
ملیکا نے فلم ’مرڈر‘ میں عمران ہاشمی کے ساتھ کام کیا، جس میں متعدد بولڈ اور رومانوی مناظر شامل تھے۔ فلم کی ریلیز کے وقت اس کے موضوع اور انداز پر کافی بحث ہوئی، کیونکہ اس دور میں مرکزی دھارے کی ہندی فلموں میں خواتین کرداروں کو اس قدر بے باک انداز میں پیش کرنا عام نہیں تھا۔ فلم کی کامیابی نے ملیکا کو راتوں رات مقبول بنا دیا اور ان کی اسکرین امیج بالی ووڈ میں ایک الگ شناخت بن گئی۔تاہم، ’مرڈر‘ سے پہلے ملیکا شیراوت فلم ’خواہش‘ (2003) میں نظر آ چکی تھیں۔ فلم میں ان کے اور ہمانشو ملک کے درمیان متعدد رومانوی مناظر شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق فلم میں 17 بوسہ مناظر کی وجہ سے اس وقت خاصی توجہ حاصل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندی سنیما میں اس نوعیت کے مناظر اب بھی خاصے غیر معمولی سمجھے جاتے تھے۔
ملیکا کے بے خوف انداز نے انہیں روایتی ہیروئنز سے مختلف بنا دیا۔ ان کا کہنا رہا کہ وہ ایسے کردار اور فلمیں منتخب کرنا چاہتی تھیں جو خواتین کے بارے میں قائم روایتی تصورات کو چیلنج کریں۔
’مرڈر‘ میں عمران ہاشمی کے ساتھ کام کرنے کے بعد دونوں اداکاروں کے درمیان تعلقات کو لے کر بھی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہیں۔ برسوں بعد عمران ہاشمی نے ایک ٹی وی شو میں ملیکا کے ساتھ اپنے تجربے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ فلمایا گیا بوسہ منظر اپنے بدترین آن اسکرین تجربات میں شمار کیا تھا۔ملیکا نے بعد میں اعتراف کیا کہ عمران کے بعض تبصروں سے انہیں دکھ پہنچا تھا۔ اس معاملے نے دونوں اداکاروں کے درمیان مبینہ اختلافات کو ایک مرتبہ پھر خبروں میں لا دیا۔
ملیکا شیراوت نے 2005 میں کانز فلم فیسٹیول میں بھی خاصی توجہ حاصل کی۔ وہ اپنی فلم ’دی میتھ‘ کی تشہیر کے سلسلے میں ریڈ کارپٹ پر نظر آئیں، جہاں ان کے لباس اور انداز نے بھارتی میڈیا میں خاصی بحث چھیڑی۔کانز میں ان کی شرکت اس وقت بھی اہم سمجھی گئی کیونکہ ملیکا ان بھارتی اداکاراؤں میں شامل تھیں جنہوں نے بین الاقوامی فلمی پلیٹ فارم پر اپنی نمایاں موجودگی بنائی۔
2015 میں ملیکا ایک بار پھر فلم ’ڈرٹی پولیٹکس‘ کے پروموشنل پوسٹر کے باعث تنازع میں آگئیں۔ پوسٹر میں انہیں ایک سرخ بتی والی گاڑی پر بیٹھے ہوئے اور بھارتی قومی پرچم سے لپٹے دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر پر شدید اعتراضات سامنے آئے اور رپورٹس کے مطابق ان کے خلاف شکایت بھی درج کرائی گئی۔
ملیکا شیراوت اور فلم ساز کرن جوہر کے درمیان بھی ایک دلچسپ میڈیا تاریخ رہی ہے۔ ملیکا نے ماضی میں اشارہ کیا تھا کہ وہ فلمی صنعت میں اکثر مذاق اور طنز کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ ’کافی ود کرن‘ میں ان کی شرکت کے دوران بھی ان کی بولڈ شخصیت اور فلمی کیریئر پر گفتگو ہوئی۔ملیکا کا کہنا رہا ہے کہ انہیں بالی ووڈ میں ہمیشہ آسانی سے قبول نہیں کیا گیا اور انہیں اپنے انتخاب کی وجہ سے مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔فلمی کیریئر کے کئی برسوں کے بعد ملیکا شیراوت ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ وہ ’ٹریٹرز سیزن 2‘ میں نظر آنے والی ہیں، جو کرن جوہر کی میزبانی میں پیش کیا جانے والا ریئلٹی شو ہے۔ملیکا شیراوت کا کیریئر اس لحاظ سے منفرد رہا ہے کہ انہوں نے روایتی ہیروئن کے کرداروں کے بجائے ایسے کرداروں اور فلموں کا انتخاب کیا جنہوں نے اس وقت کے معاشرتی اور فلمی معیار کو چیلنج کیا۔ ’خواہش‘ سے ’مرڈر‘ تک اور پھر کانز کے ریڈ کارپٹ سے مختلف تنازعات تک، ان کی شخصیت نے بالی ووڈ میں بولڈ سنیما، خواتین کی اسکرین نمائندگی اور اداکاراؤں کے انتخاب پر ایک طویل بحث کو جنم دیا۔
