ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نےخبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اگلے 5 سال میں نہ صرف اپنی موجودہ صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ پوری انسانیت سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے-
عالمی اقتصادی فورم میں ایلون مسک نے بلیک راک کے سی ای او لیری فنک کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز اور مختلف صنعتوں میں تیار شدہ ذہین سافٹ وئیر کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اگلے سال یا اس سال کے دوسرے نصف میں AI ممکنہ طور پر انسانی قابلیت سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ AI کی ترقی مرحلہ وار ہوگی اور اگلے 10 سال میں واضح مراحل میں بڑھتی رہے گی، جس کی رفتار زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے، تاہم عالمی معیشت میں اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے،انہوں نے روبوٹکس میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کے ہیومینوڈ روبوٹز، جنہیں ’آپٹیمس‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی فیکٹریوں میں معمول کے کام انجام دے رہے ہیں اور سال کے آخر تک یہ زیادہ پیچیدہ کام بھی کر سکیں گے، وقت کے ساتھ صارفین روبوٹز سے تقریباً ہر قسم کا کام کروانے کی توقع رکھ سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا کی گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔
