لندن: برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کے باعث فضائی سفر کا بحران بدستور جاری ہے، سیکڑوں پروازیں منسوخ ہونے سے ہزاروں مسافر مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے، جبکہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر متعدد مسافروں کو رات ایئرپورٹ کے فرش پر گزارنا پڑی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز برطانیہ بھر میں ایک ہزار سے زائد پروازیں متاثر یا منسوخ ہوئیں، جبکہ بدھ کی صبح بھی 250 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی تھیں، جن میں زیادہ تر ہیتھرو ایئرپورٹ سے متعلق تھیں۔ فضائی ٹریفک کنٹرول فراہم کرنے والے ادارے NATS کے تکنیکی مسئلے کے اثرات سے پروازوں کے شیڈول، طیاروں اور عملے کی پوزیشننگ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ہیتھرو ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشن بتدریج بحال ہورہا ہے اور پروازیں آج روانہ اور لینڈ ہورہی ہیں، تاہم طیاروں اور عملے کو دوبارہ مختلف مقامات پر پہنچانے کے عمل کے باعث مزید تاخیر اور منسوخی کا خدشہ موجود ہے۔انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی ایئرلائن سے پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کریں اور صرف اسی صورت میں ہیتھرو آئیں جب ان کی پرواز کے آپریٹ ہونے کی تصدیق ہو۔ مسافروں کی مدد کے لیے اضافی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔
بحران کے باعث ہیتھرو کے ٹرمینل 5 میں سیکڑوں مسافروں کو رات سرد فرش پر گزارنا پڑی۔ بعض مسافروں کو سامان رکھنے والی پلاسٹک ٹرے پر سونے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ دیگر مسافروں نے نشستوں اور سامان لے جانے والی ٹرالیوں پر رات گزاری۔بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جو شوہر اور کم عمر بچے کے ہمراہ سفر کررہی تھیں، نے بتایا کہ انہوں نے برٹش ایئرویز سے ہوٹل کے انتظام میں مدد مانگی لیکن انہیں رہائش فراہم نہیں کی جاسکی۔ بعض کاروباری مسافروں نے بھی اپنے سفر کو ’’جہنم جیسا سفر‘‘ قرار دیا۔ہیتھرو پر پھنسنے والے مسافروں میں اسکائی نیوز کی صحافی کیٹ سلیوان بھی شامل تھیں، جنہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً نو گھنٹے طیارے کے اندر ٹارمک پر موجود رہیں۔ ان کے مطابق مسافروں کو محدود مقدار میں خوراک اور پانی فراہم کیا گیا، جبکہ طویل انتظار کے دوران لوگ بھوک اور پیاس سے پریشان رہے۔طیارے سے نکلنے کے بعد مسافروں کو طویل راستہ پیدل طے کرنا پڑا۔ سامان وصول کرنے والے حصے میں صورتحال مزید خراب ہوگئی جہاں سوٹ کیس بکھرے ہوئے تھے، معلوماتی اسکرینیں بند تھیں اور مسافروں کو مناسب رہنمائی نہیں مل رہی تھی۔ بعض مسافروں نے بتایا کہ سامان کے لیے قطار تین گھنٹے سے بھی زیادہ طویل ہوگئی تھی۔
برٹش ایئرویز کی 190 پروازیں منسوخ، مفت ری بکنگ کی پیشکش
برٹش ایئرویز نے تصدیق کی ہے کہ آج اس کی 190 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ ایئرلائن کے مطابق بڑی تعداد میں طیاروں اور عملے کے مختلف مقامات پر پھنس جانے کے باعث معمول کا فلائٹ شیڈول برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ایئرلائن نے متاثرہ دسیوں ہزار مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فون اور چیٹ سروسز پر غیر معمولی رش ہے۔ منسوخ شدہ پرواز کے مسافروں کو ایئرپورٹ آنے کے بجائے آن لائن انتظامات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، جبکہ مسافر جمعے تک اپنی پرواز مفت تبدیل کرسکتے ہیں۔
بچوں سمیت خاندان ایئرپورٹ پر پھنس گیا
ایک مسافر اولگا اپنے ساتھی اور 10 اور 12 سالہ دو بچوں کے ہمراہ ہیتھرو ایئرپورٹ پر گزشتہ روز سے موجود ہیں۔ ان کی پرواز منسوخ ہونے کے بعد خاندان نے رات ٹرمینل 5 کے سرد فرش پر گزاری۔اولگا کے مطابق ایئرپورٹ عملے کی جانب سے انہیں صرف پانی کی ایک بوتل ملی اور کھانا فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو رواں ہفتے دوبارہ اسکول جانا ہے اور پرواز کی منسوخی کے باعث ان کے پاس گھر واپس پہنچنے کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ انہوں نے حکام کو مسافروں سے نمٹنے کے لیے بہتر انتظامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یونان میں بھی برطانوی مسافر پھنس گئے
فضائی بحران کے اثرات برطانیہ سے باہر بھی دیکھنے میں آئے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ مراکش کے شہر مراکش سے مانچسٹر جانے والی ایزی جیٹ کی پرواز منسوخ ہونے کے بعد اگلی دستیاب پروازیں کئی دن تک مکمل تھیں، جس کے باعث انہیں تقریباً 250 کلومیٹر دور اغادیر ایئرپورٹ جانا پڑا تاکہ وہاں سے مانچسٹر کی پرواز حاصل کرسکیں۔ایک اور خاندان یونان کے جزیرے کوس میں 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک پھنسا رہا۔ مسافر کے مطابق انہیں جس ہوٹل میں منتقل کیا گیا وہاں انتظامات انتہائی ناقص تھے اور بالآخر خاندان کو کمرہ چھوڑ کر ہوٹل کی لابی میں انتظار کرنا پڑا۔
NATS کے چیف ایگزیکٹو مارٹن رولف نے فضائی ٹریفک کنٹرول کے بڑے تکنیکی تعطل کی وجہ کے طور پر سائبر حملے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال سائبر حملے کو وجہ نہیں سمجھا جارہا اور تحقیقات کے نتیجے میں ممکنہ طور پر کسی مختلف تکنیکی مسئلے کا پتا چلے گا۔
بحران کے بعد برطانوی ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر نے NATS کے سربراہ مارٹن رولف سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ رولف سے ان کی ملاقات کے بعد وہ ہاؤس آف کامنز میں سول ایوی ایشن بل کی دوسری خواندگی کے موقع پر ارکان پارلیمنٹ سے بھی خطاب کریں گی۔اگرچہ ہیتھرو شدید متاثر ہوا ہے، تاہم مانچسٹر اور لندن اسٹینسٹڈ ایئرپورٹس نے اپنے آپریشنز کو معمول کے مطابق قرار دیا ہے۔ مانچسٹر ایئرپورٹ نے مسافروں کو اپنے سفری منصوبے جاری رکھنے اور اپنی متعلقہ ایئرلائن سے تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ڈبلن ایئرپورٹ نے بھی بتایا کہ گزشتہ روز برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے مسئلے کے باعث تقریباً 90 پروازیں متاثر ہوئیں، تاہم آج مکمل شیڈول کے مطابق آپریشن جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب گیٹ وک ایئرپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اس کے آپریشنز کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے اور مسافروں کو اپنی پرواز کے بارے میں متعلقہ ایئرلائن سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے تکنیکی بحران نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو نمایاں کردیا ہے کہ اہم قومی فضائی نظام میں بیک اپ اور ہنگامی انتظامات کس حد تک مؤثر ہیں۔ فی الحال حکام کی توجہ پروازوں کا شیڈول معمول پر لانے اور ہزاروں متاثرہ مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔
