راولپنڈی میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو مبینہ طور پر دوبارہ قتل کرنے کی سازش ناکام بنا دی گئی۔ پولیس نے منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر ملوث ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت ملک محمد عمران ولد صوفی خدا بخش کے نام سے ہوئی ہے، جو شاہ جیون کالونی، چک جلال دین جبکہ مستقل طور پر سہال، راجڑ راولپنڈی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے تھانہ سول لائنز منتقل کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق چند روز قبل لالکڑتی کے علاقے میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں علی رضا جاں بحق جبکہ ان کا دوست مراد شدید زخمی ہو گیا تھا۔ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کرکے دو ملزمان کو گرفتار بھی کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کی مبینہ وجہ ایک مبینہ ڈاکو تیمور کی پولیس مقابلے میں ہلاکت تھی۔ ملزمان کو شبہ تھا کہ علی رضا نے پولیس کو اطلاع فراہم کی تھی، جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔
زخمی مراد کو علاج کے لیے بے نظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر گرفتار ملزم ملک عمران نے اسے ایسے کمرے میں منتقل کرنے کی کوشش کی جس کی کھڑکی میٹرو بس پل کے بالکل سامنے کھلتی تھی۔
ذرائع کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ کرائے کے قاتل میٹرو بس پل سے زخمی مراد کو نشانہ بنائیں، تاہم بروقت کارروائی کے باعث یہ مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا اور زخمی شخص کی جان بچ گئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ گرفتار ملزم سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس مبینہ سازش میں شامل دیگر افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ مذکورہ تفصیلات ابتدائی پولیس اور ذرائع کی معلومات پر مبنی ہیں، جن کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
بے نظیر اسپتال میں زخمی کو دوبارہ قتل کرنے کی مبینہ سازش ناکام، سہولت کار گرفتار
