Baaghi TV

گوجرخان میں رہائشی آبادی کے اندر مبینہ مضر صحت مکھن بنانے کا یونٹ بے نقاب

خفیہ اطلاع پر چھاپہ، 400 کلو مکھن، شاہ تاج اور گولڈن سن گھی کے 48 ٹین ضبط، 4 فریزر سیل نمونے لیبارٹری بھجوا دیے رپورٹ آنے پر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ
پروفیسر رفیق والی گلی میں قائم یونٹ پر فوڈ سیفٹی ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آگئیں مقامی و ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ ارسال کی جائے گی
گوجرخان (قمرشہزاد) پنجاب فوڈ اتھارٹی راولپنڈی نے خفیہ اطلاع پر تھانہ گوجرخان کے عقب وارڈ نمبر 1، پروفیسر رفیق والی گلی میں واقع ایک رہائشی مکان پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر مضر صحت مکھن تیار کرنے والے یونٹ کا سراغ لگا لیا۔ کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی ارشد کی سربراہی میں پولیس تھانہ گوجرخان کی نفری کے ہمراہ کی گئی، جہاں سے بھاری مقدار میں مبینہ مضر صحت مکھن، گھی، مشینری اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا گیا۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق مکان کی بالائی منزل رہائش کے لیے استعمال ہو رہی تھی جبکہ گراؤنڈ فلور پر مبینہ طور پر مکھن تیار کیا جا رہا تھا۔ کارروائی کے دوران 400 کلوگرام مبینہ مضر صحت مکھن، شاہ تاج اور گولڈن سن برانڈ گھی کے 48 ٹین، پیکنگ میٹریل، خام مال اور ایک مشین برآمد کی گئی، جہاں مبینہ طور پر برف، گھی اور دیگر اجزاء ملا کر مکھن تیار کیا جاتا تھا۔ مکان میں موجود چار فریزر بھی سیل کر دیے گئے، جن میں سے ایک میں برف جبکہ دیگر میں مبینہ طور پر تیار مکھن رکھا ہوا تھا۔ تمام ضبط شدہ مکھن، گھی کے ٹین، پیکنگ میٹیریل سرکاری تحویل میں لے کر منتقل کر دیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران فوڈ سیفٹی کے ایس او پیز اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی متعدد خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں، جس کے باعث یونٹ کو سیل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی تفصیلی رپورٹ ضلعی انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی ارسال کی جائے گی تاکہ رہائشی آبادی میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کے حوالے سے متعلقہ ادارے بھی قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لا سکیں۔ فوڈ اتھارٹی نے موقع سے مکھن کے سیمپلز حاصل کرکے لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق حتمی لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد اگر مکھن مضر صحت یا غیر معیاری ثابت ہوا تو تھانہ گوجرخان میں متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا اور قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مبینہ طور پر یہ یونٹ کافی عرصے سے سرگرم تھا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ یہاں تیار ہونے والی مصنوعات کہاں کہاں سپلائی کی جا رہی تھیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور لیبارٹری رپورٹ سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی ارشد نے کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی خوراک کی تیاری یا فروخت ثابت ہونے پر کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جائے۔

More posts