تنخواہیں تو نہ ملیں مگر ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا، ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے صفائی ورکر کی موت نے پنجاب کے ٹھیکیداری نظام کا ضمیر جھنجھوڑ دیا
جواں سالہ بیوی بیوہ، معصوم بچے یتیم، بوڑھے والدین بڑھاپے کے سہارے سے محروم؛ کب تک محنت کش اپنے حق کی تنخواہ کے لیے ذلیل ہوتے رہیں گے؟
گوجرخان (قمرشہزاد) بعض سانحات صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتے، وہ پورے نظام کے چہرے پر ایک ایسا سوال ثبت کر جاتے ہیں جسے لاکھ کوشش کے باوجود مٹایا نہیں جا سکتا۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے صفائی ورکر اسماعیل کی المناک موت نے بھی ایسا ہی سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی آنا باقی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر ایک محنت کش کئی کئی ماہ اپنی جائز تنخواہ سے محروم رہے، قرضوں میں ڈوب جائے، ذہنی اذیت کا شکار ہو اور اس کا خاندان فاقوں اور پریشانی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو، تو یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ذرائع کے مطابق مرحوم کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، قرضوں اور مالی دباؤ کا شکار تھا۔ وہ دن کو ہسپتال میں صفائی کرتا، مستقبل سنوارنے کے لیے فارمیسی کی تعلیم حاصل کرتا، اپنے بچوں کے بہتر کل کے خواب دیکھتا اور بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ آج وہ خواب بھی دفن ہو گئے۔ ایک نوجوان خاتون بیوہ ہو گئی، معصوم بچے یتیم ہو گئے اور بوڑھے ماں باپ اپنے بڑھاپے کے واحد سہارے سے محروم ہو گئے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ان خاندانوں کا قصور کیا ہے؟ اگر حکومت متعلقہ کمپنیوں کو ادائیگیاں کر رہی ہے تو محنت کشوں کی تنخواہیں آخر کس کے پاس رکی رہتی ہیں؟ کیوں ہر چند ماہ بعد یہی چیخیں سنائی دیتی ہیں کہ دو، تین اور چار ماہ سے مزدور تنخواہ کے منتظر ہیں؟ آخر یہ خاموش استحصال کب تک جاری رہے گا؟ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اکثر کسی بڑے سانحے کے بعد چند دن شور مچتا ہے، بیانات آتے ہیں، نوٹس لیے جاتے ہیں، انکوائریوں کا اعلان ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ فائلیں بند الماریوں میں دفن ہو جاتی ہیں اور متاثرہ خاندان انصاف کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ اگر اس بار بھی ایسا ہی ہوا تو یہ صرف ایک کیس دبنے کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ محنت کش طبقے کے ریاست پر اعتماد کو مزید مجروح کرے گا۔ پنجاب حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تمام ٹھیکیدار کمپنیوں کا مالی اور انتظامی آڈٹ کیا جائے، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو قانونی ضمانت دی جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو تو کسی رعایت کے بغیر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ کیونکہ اگر ایک محنت کش اپنی محنت کی کمائی کے انتظار میں زندگی ہار جائے، تو یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کی گواہی بن جاتا ہے۔
