Baaghi TV

انصر عباسی کا پیمرا اور حکومت سے فحاشی و عریانیت کو روکنے کی درخواست

نجی ٹی وی چینل دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصر عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے ایک انٹرٹینمنٹ شو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا اور حکومت کو چاہیے کہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔

باغی ٹی وی : حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں لوگوں کو عید سادگی اور گھروں میں رہ کر منانے کی درخواست کی گئی تھی جہاں حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے کئی فنکاروں نے ان ایس اوپیز پر عمل کرتے ہوئے عوام کو بھی آگاہی پیغام دیئے اور کورونا اور طیارہ حادثے کے باعث عید کو سادگی سے منانے کا اعلان کیا وہیں کچھ فنکاروں اور ٹی وی چینلز نے ان ایس اوپیز کی دھجیاں اڑا دیں

گذشتہ روز نجی ٹی وی چینل ہم ٹی وی پر ہونے والا شو اس بات کا کُھلا ثبوت ہے اس شو پر عوام سمیت کئی معروف شخصیات نے تنقید کا نشانہ بنایا-
https://twitter.com/SaadMaqsood2/status/1264617093976203265
بلاگر میڈیا ایکٹویسٹ سعد مقصود نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے اکاؤنٹ پر مذکورہ شو کا ایک ویڈیو کلپ شئیر کرتے ہوئے اس شو اور فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر عید کی نشریات ہیں وہ ملک جہاں کرونا کی وبا سے لوگ مر رہے ہیں جہاں بابرکت ماہ رمضان گزرا ہے اور جہاں عید سے کچھ دیر پہلے طیارہ حادثے میں لوگ شہید ہوئے ہیں

انہوں نے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ کیا رب کا عزاب ہم پر نہیں آئے گا ؟؟


سعد مقصود کی اس ٹویٹ کے جواب میں نجی ٹی وی چینل دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصر عباسی نے لکھا کہ اس بے شرمی اور بے غیرتی کی کسی بھی طور پر میڈیا کو دکھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت اور پیمرا کو چاہیے کہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔

انہوں نے پیمرا پاکستانی صدر عارف علوی وزیراعظم عارف علوی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما علی محمد کو بھی ٹیگ کیا


انصر عباسی کی اس ٹویٹ کے جواب میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی رد عمل دیا انہوں نے لکھا کہ اس کا انتہائی آساں حل ہے آپ ریموٹ اٹھائیں اور چینل بدل لیں، آپ 24/7 ٹی وی پر انٹرنیٹ پر آخر فحاشی ڈھونڈھتے کیوں ہیں؟

‏اگرصرف آنکھ سےدیکھنا ہےتوپھرتوہرجگہ کی اپنی عید ہوگی،فوادچودھری‏

فواد چودھری مفتی منیب کی بجائے ان سے لڑیں جنہوں نے وزارت اطلاعات سے باہر نکالا

More posts