Baaghi TV

لاہور ہائیکورٹ، زین کی موت کی انکوائری اور ریکارڈ محفوظ کرنے کیلئے درخواست دائر

lahore high court

لاہور: شادمان میں ٹریفک اہلکار کی جانب سے موٹر سائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے واقعے کی انکوائری اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

شہری زاہر شاہ نے ایڈووکیٹ ناصر چوہان کے توسط سے آئینی درخواست دائر کی، جس میں چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، چیف ٹریفک آفیسر لاہور، پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور سٹی ٹریفک پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست کے مطابق 26 اگست 2026 کو شام تقریباً ساڑھے 5 بجے شادمان مارکیٹ یوٹرن کے قریب تقریباً 30 سالہ نوجوان محمد زین موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ ٹریفک اسسٹنٹ/وارڈن سلطان الحق نے اسے روکنے کی کوشش کی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آچکی ہے، جس میں مبینہ طور پر ٹریفک اہلکار کو موٹر سائیکل سوار کو روکنے کے لیے سڑک پر آتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد موٹر سائیکل اہلکار سے ٹکرائی اور محمد زین گر کر شدید زخمی ہوگیا۔زخمی نوجوان کو تشویشناک حالت میں سروسز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً پانچ روز زیرِ علاج رہنے کے بعد یکم ستمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

درخواست گزار نے درخواست میں کہا کہ معاملہ صرف ایک فرد کی موت تک محدود نہیں بلکہ لاہور سمیت پنجاب میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ چلتی ٹریفک میں موٹر سائیکل یا گاڑی کو اچانک روکنے کی کوشش سے بریک لگنے، توازن بگڑنے، تصادم اور دیگر حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے نہ صرف شہری بلکہ ٹریفک اہلکار بھی خطرے میں پڑتے ہیں۔درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ محمد زین کی موت سے متعلق تمام ریکارڈ، بالخصوص سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دیا جائے اور واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔

More posts