آسٹریلیا کی جنوب مشرقی ریاستوں میں شدید جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں گھروں کو نقصان پہنچا، ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہو گئے اور لاکھوں ایکڑ رقبہ جل کر راکھ ہو گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وکٹوریا ریاست میں ہفتے کے روز ہزاروں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف رہے، جہاں بدھ کے بعد سے شدید گرمی کی لہر کے دوران 3 لاکھ ہیکٹر سے زائد جنگلات جل چکے ہیں ہ ریاست بھر میں اب بھی 10 جگہیں بڑے پیمانے کی آگ کی لپیٹ میں ہیں۔
وکٹوریا سے ملحقہ نیو ساؤتھ ویلز میں بھی صورت حال تشویشناک ہے، جہاں سرحدی علاقوں کے قریب کئی مقامات پر آگ کو ہنگامی سطح قرار دیا گیا ہے فائر سروس کے مطابق درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس سے آگ کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔
آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت
حکام کے مطابق وکٹوریا میں اب تک 130 سے زائد عمارتیں، جن میں رہائشی مکانات بھی شامل ہیں، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ تقریباً 38 ہزار گھر اور کاروبار بجلی سے محروم ہیں یہ آگ 2019 اور 2020 کے بدنام زمانہ بلیک سمر بش فائرز کے بعد ریاست میں سب سے شدید آفت قرار دی جا رہی ہے، جن میں 33 افراد جان سے گئے تھے۔
وکٹوریا کی وزیر اعلیٰ جیسنٹا ایلن نے کہا کہ جہاں ممکن ہوا آگ پر قابو پایا جائے گا اور ہزاروں فائر فائٹرز میدان میں موجود ہیں، دوسری جانب وزیر اعظم انتھونی البانیز نے خبردار کیا کہ ملک کو انتہائی خطرناک فائر ویڈر کا سامنا ہے، خاص طور پر وکٹوریا میں جہاں کئی علاقے ڈیزاسٹر زون قرار دیے جا چکے ہیں۔
کراچی میں پہلے ڈیجیٹل ہیلتھ سینٹر کا افتتاح
میلبورن سے شمال کی جانب لانگ ووڈ کے قریب لگنے والی ایک بڑی آگ نے 1 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر رقبہ جلا دیا ہے، جس سے 30 عمارتیں، انگور کے باغات اور زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچا درجنوں دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں اور متعدد قومی پارکس اور کیمپ گراؤنڈز بند کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وکٹوریا کے بڑے حصوں میں ہیٹ ویو وارننگ جبکہ نیو ساؤتھ ویلز سمیت ملک کے کئی علاقوں میں فائر ویڈر الرٹ جاری ہےسڈنی میں درجہ حرارت 42.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو جنوری کے اوسط درجہ حرارت سے 17 ڈگری زیادہ ہےتاہم پیش گوئی کی گئی ہے کہ ہفتے کے آخر میں موسم نسبتاً بہتر ہو سکتا ہے۔
