جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم 22 جولائی 2026ء کو لاہور میں طویل علالت (کینسر) کے باعث انتقال کر گئے تھے ان کی نمازِ جنازہ منصورہ لاہور میں ادا کی گئی امیر العظیم کی وفات پر سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان اورسیاسی و مذہبی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے-
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کر گئے وہ گزشتہ کچھ عرصے سے گلے کے کینسر میں مبتلا تھے اور زیر علاج تھے امیر العظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئےامیر العظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہےامیر العظیم کو 2019ء میں سراج الحق نے مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا،امیر العظیم کو 2024ء میں حافظ نعیم الرحمن نے انہیں مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔
امیر العظیم کی اسکول کے دور میں ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی ہوئی بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر رہے، جنرل ضیا الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا اور اس تحریک کے دوران جیل کی کٹھن صعوبتیں برداشت کیں اور جیل میں قید تھے جب انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا-
خاندانی ذرائع اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے مطابق امیرالعظیم نے لاہور میں آخری سانس لی ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امیرالعظیم جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت میں اہم مقام رکھتے تھے اور طویل عرصے تک تنظیمی و سیاسی ذمہ داریاں نبھاتے رہے وہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پارٹی امور، تنظیمی معاملات اور مختلف قومی و سیاسی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کرتے رہے امیر العظیم نے فیوچر وژن کمیونیکیشن کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی کام کیا، سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں اپنی نرم گوئی اور بہترین تعلقات کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے تھے اور جماعت اسلامی کے بہترین منتظم اور مربی تھے، فکری خطابات سے کارکنان نے رہنمائی حاصل کی۔
وہ کافی عرصے سے گلے کے کینسر کے باعث علیل تھے اور مختلف مراحل میں علاج بھی جاری تھا، تاہم بیماری کے باعث ان کی صحت مسلسل متاثر رہی ان کے انتقال پر جماعت اسلامی کے قائدین، کارکنوں اور مختلف سیاسی شخصیات نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی دینی، سیاسی اور تنظیمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اینکر پرسن مبشر لقمان اور دیگر کی جانب سے جاری تعزیتی پیغامات میں ان کی مغفرت، درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی ہے۔
امیرالعظیم کو جماعت اسلامی کے ایک باوقار، نظریاتی اور متحرک رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں تنظیمی استحکام، عوامی مسائل کے حل اور جماعت کے پیغام کو ملک بھر میں پہنچانے کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں، ان کے انتقال کو جماعت اسلامی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
