Baaghi TV

عوامی مفاد میں حکومت مالک کی رضامندی کے بغیر بھی زمین حاصل کر سکتی ہے: سپریم کورٹ

‎اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے زمین کے حصول سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عوامی مفاد میں حکومت زمین کے مالک کی رضامندی کے بغیر بھی جائیداد حاصل کر سکتی ہے، تاہم یہ اختیار غیر محدود نہیں اور آئین کے دائرے میں استعمال کیا جائے گا۔
‎عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ریاست کو عوامی منصوبوں اور قومی مفاد کے لیے زمین حاصل کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے، لیکن اس اختیار کے استعمال کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
‎سپریم کورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 23 اور آرٹیکل 24 شہریوں کے حقِ ملکیت اور حکومت کے اختیارات کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ زمین کے مالک کو منصفانہ اور مکمل معاوضہ دینا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
‎فیصلے میں عدالت نے کہا کہ "زمین کے مالک کو سونے کے بدلے سونا دیا جائے، نہ کہ سونے کے بدلے تانبا تھما دیا جائے۔” اس ریمارک کے ذریعے عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ معاوضہ حقیقی اور منصفانہ ہونا چاہیے، نہ کہ صرف رسمی کارروائی۔
‎سپریم کورٹ نے مزید ہدایت کی کہ زمین کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس میں مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال، مستقبل کی ترقی اور تجارتی اہمیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
‎عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر زمین کے حصول کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے تو اس عرصے کے دوران افراطِ زر، جائیداد کی قیمت میں اضافہ اور دیگر معاشی عوامل کو بھی معاوضے کا حصہ بنایا جائے تاکہ زمین کے مالک کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
‎قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں اور زمین کے حصول سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا، کیونکہ اس میں عوامی مفاد اور شہریوں کے آئینی حقِ ملکیت کے درمیان توازن کی واضح تشریح کی گئی ہے۔

More posts