بلدیاتی انتخابات کا چرچا ہوتے ہی گلی، محلے، چوک اور بیٹھکیں ایک بار پھر سیاسی گفتگو کا مرکز بننے لگتی ہیں۔ کہیں امیدواروں کی آمدورفت بڑھ جاتی ہے، کہیں مشوروں کی محفلیں سجتی ہیں اور کہیں چائے کی پیالی کے ساتھ ووٹوں کا حساب کتاب ہونے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر اور دیہات میں ایک نیا سیاسی اکھاڑا سجنے والا ہو اور اس اکھاڑے میں اترنے کے لیے بلدیاتی پہلوان اپنی اپنی تیاریاں مکمل کر رہے ہوں۔ بلدیاتی سیاست دراصل عام آدمی کے سب سے قریب کی سیاست ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں تک پہنچنے والے نمائندے شاید ہر گلی کی دہلیز تک نہ پہنچ سکیں، مگر بلدیاتی نمائندے کو اسی گلی، اسی محلے اور اسی بستی میں رہنا ہوتا ہے۔ نالی، گلی، صفائی، پینے کا پانی، سڑک، اسٹریٹ لائٹ اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل براہِ راست بلدیاتی نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے بلدیاتی انتخابات محض کرسی کا مقابلہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے انتخابی موسم قریب آتا ہے، سیاسی اکھاڑے کے پہلوان بھی اپنے اپنے انداز میں میدان گرم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی خدمت کا ماضی سامنے لاتا ہے، کوئی مستقبل کے خواب دکھاتا ہے، کوئی برادری کا سہارا لیتا ہے اور کوئی تعلقات اور اثرورسوخ کو اپنی طاقت سمجھتا ہے۔
بعض اوقات ایسے دعوے بھی سننے کو ملتے ہیں کہ اگر ووٹ مل گیا تو پورا علاقہ چند دنوں میں بدل جائے گا۔ عوام مسکرا کر سنتے ہیں، کیونکہ وہ وعدوں کی بہاریں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں اور انتظار کی خزائیں بھی بھگت چکے ہیں۔ اصل پہلوان وہ نہیں جو انتخابی مہم میں سب سے زیادہ شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو کامیابی کے بعد بھی عوام کے درمیان موجود رہے۔ جسے ووٹ لینے سے زیادہ ووٹ کی حرمت کا احساس ہو، جو مخالف کی عزت کرنا جانتا ہو اور جو سرکاری اختیار کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔ عوام کو بھی اس بلدیاتی اکھاڑے میں صرف نعروں اور جذبات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ امیدوار کا کردار، سابقہ کارکردگی، عوام سے تعلق، دیانت داری اور خدمت کا جذبہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ ووٹ ایک معمولی پرچی نہیں، یہ اپنے محلے اور آنے والے برسوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ اب بلدیاتی اکھاڑا سجنے کو ہے، پہلوان میدان میں اترنے کو ہیں اور دعووں کے ڈھول بھی بجنے لگے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کامیابی کس کی ہوتی ہے؛ نعروں کے پہلوان کی یا خدمت کے حقیقی سپاہی کی؟ فیصلہ بہرحال عوام کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ اس اکھاڑے کا اصل منصف ووٹر ہے۔
