وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے
گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے کبھی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کی، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی صحت کو بھی سیاسی بحث کا حصہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کس طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر کھانا بند کرنے کی بات کرتے تھے، جبکہ ہماری قیادت نے کبھی بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہر قیدی کا حق ہے کہ اسے آئین اور قانون کے مطابق صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی صحت کی سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی پہلے کی طرح علاج کی سہولیات دستیاب رہیں گی۔
عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔ قیدی کو جیل مینوئل کے مطابق صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحت کا معاملہ سیاست سے الگ رہنا چاہیے اور قیدیوں کو آئین و قانون کے مطابق علاج کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
