دنیا بھر کے اربوں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو بھی بینکوں کے ہیلپ لائن نمائندوں کے رویے سےمحفوظ نہ رہ سکے، حال ہی میں ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا ہے جہاں بینک کے کسٹمر سروس نمائندے نے پوپ لیو کی شناخت بتانے پر فون ہی کاٹ دیا۔
پوپ لیو کے دیرینہ دوست ریورنڈ ٹام میکارتھی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے میکارتھی نے الینوائے میں ایک تقریب کے دوران بتایا کہ گزشتہ سال اپنی پاپائیت کے دوسرے ہی مہینے میں پوپ لیو (جن کا پیدائشی نام رابرٹ فرانسس پریوسٹ ہے اور ان کا تعلق شکاگو سے ہے) نے اپنے بینک کو فون کیا ، وہ اپنے فون نمبر اور پتے کی تفصیلات میں تبدیلی کروانا چاہتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پوپ لیو نے باقاعدہ اپنا سوشل سیکیورٹی نمبر فراہم کیا اور سیکیورٹی سے متعلق تمام سوالات کے درست جوابات بھی دیے، لیکن اس کے باوجود خاتون نمائندہ نے روایتی جواب دیتے ہوئے کہا ’محترم معذرت چاہتی ہوں، ریکارڈ کے مطابق ان تبدیلیوں کے لیے آپ کو ذاتی طور پر بینک آنا ہوگا،پوپ نے جواب دیا کہ ’میرے لیے بینک آنا ممکن نہیں ہوگا، کیا ہم اسے فون پر تبدیل نہیں کرسکتے؟‘ تاہم جب بار بار کی درخواست کا کوئی اثر نہ ہوا تو انہوں نے اپنا آخری کارڈ کھیلتے ہوئے پوچھا ’کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا اگر میں آپ کو بتاؤں کہ میں ’پوپ لیو‘ بات کر رہا ہوں؟‘ یہ سنتے ہی کسٹمر سروس نمائندہ نے اسے کوئی مذاق سمجھا اور فوراً فون کاٹ دیا۔
میکارتھی نے کہا کہ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وہ خاتون اب اس حوالے سے جانی جائیں گی کہ انہوں نے خود پوپ کا فون کاٹ دیا تھا؟‘ بعد ازاں ویٹیکن کے ایک عہدیدار نے خود بینک جا کر یہ معاملہ حل کرایا-
