زندگی کی سب سے عجیب حقیقت یہ نہیں کہ لوگ ہمیں چھوڑ جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ چلے جانے کے بعد بھی ہمارے اندر رہ جاتے ہیں۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، نئے لوگ زندگی میں آتے ہیں، پر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو دل کے کسی خاموش گوشے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے ہیں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جدائی صرف جسموں کے درمیان فاصلے کا نام ہے، مگر اصل جدائی تو وہاں شروع ہوتی ہے جہاں یادیں روز ملنے لگتی ہیں۔ کچھ لوگ برسوں سے ہمارے ساتھ نہیں ہوتے، لیکن ایک خوشبو، ایک سڑک، ایک پرانا گیت یا کسی کی ہنسی اچانک ہمیں انہی لمحوں میں واپس لے جاتی ہے جہاں سے ہم بہت پہلے نکل آئے تھے۔
انسان کا حافظہ عجیب ہے۔ وہ تاریخیں بھول جاتا ہے، مگر احساس نہیں بھولتا۔ اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ آخری ملاقات کس دن ہوئی تھی، مگر یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد دل کی کیفیت کیا تھی۔ شاید اسی لیے کچھ رشتے ختم ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوتے، کیونکہ وہ تعلق لفظوں سے نہیں، احساس سے جڑا ہوتا ہے۔ہم اکثر خود کو یقین دلاتے ہیں کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، لیکن شاید وقت زخم نہیں بھرتا، وہ صرف انسان کو درد کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔ کچھ خالی جگہیں کبھی پُر نہیں ہوتیں، بس ہم ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسکراہٹوں کے پیچھے برسوں پرانی خاموشیاں چھپی ہوتی ہیں جن کا ذکر کبھی کسی محفل میں نہیں ہوتا۔
لیکن ہر یاد تکلیف نہیں ہوتی۔ کچھ یادیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ہم کبھی دل سے جینا جانتے تھے، کسی پر بےلوث اعتماد کرنا جانتے تھے، کسی کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کر لیتے تھے۔ اگر کوئی شخص آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے تو شاید اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آگے نہیں بڑھے، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انہیں بھلایا نہیں جاتا، صرف قبول کیا جاتا ہے۔
شاید زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ ہر آنے والا ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتا۔ کچھ لوگ ہمیں بدلنے آتے ہیں، کچھ ہمیں سنبھالنے، کچھ ہمیں آئینہ دکھانے، اور کچھ صرف یہ سکھانے کہ ہر ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ اگر ہر شخص ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا تو شاید ہم کبھی مضبوط ہونا نہ سیکھتے۔اس لیے اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا شخص ہے جو برسوں پہلے جا چکا ہے مگر آج بھی کسی خاموش لمحے میں یاد آ جاتا ہے، تو اس یاد سے جنگ مت کیجیے۔ ہر یاد کو بھلانا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ یادیں انسان کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ اسے اس کی اپنی کہانی یاد دلاتی ہیں۔
آخرکار، زندگی صرف ان لوگوں سے نہیں بنتی جو ہمارے ساتھ چلتے رہتے ہیں، بلکہ ان لوگوں سے بھی بنتی ہے جو راستہ بدل لینے کے باوجود ہمارے اندر کہیں رہ جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے… مگر کبھی جاتے بھی نہیں۔
