تاریخ کے ایوانوں میں بعض لمحات ایسے خاموش طوفان کی مانند وارد ہوتے ہیں جو صدیوں سے بنے بنائے مصنوعی بیانیوں اور ریاستی ہٹ دھرمیوں کو ایک ہی جھٹکے میں ریت کے محل کی طرح ڈھا دیتے ہیں۔ سفارت کاری کا میدان محض شعلہ بیانی یا کاغذ کے ٹکڑوں کی الٹ پلٹ کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اصول، صبر اور تاریخ کے ناگزیر فیصلوں کی وہ بساط ہے جہاں حق کو بالآخر اپنا آپ منوانا پڑتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں صدیوں پرانے استعماری مرکیٹر نقشے کی جگہ رقبے کے درست تناسب پر مبنی نئے معیاری نقشے کی توثیق کے موقع پر ایک ایسا ہی عدیم النظیر منظر دنیا نے دیکھا جس نے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی و سفارتی سیاست کے بند کواڑ جھنجھوڑ کر رکھ دیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ارضیاتی شعبے کی جانب سے جاری کردہ اس مستند عالمی نقشے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو کسی بھی ملک کا اندرونی حصہ تسلیم کرنے کے بجائے بدستور ایک بین الاقوامی متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے، اور پاکستان و بھارت کے زیرِ انتظام حصوں کو ایک واضح نقطہ دار لکیر یعنی ڈاٹڈ لائن سے تقسیم کرتے ہوئے یہ قانونی وضاحت بھی درج کر دی گئی ہے کہ اس خطے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ سب سے بڑا تاریخی المیہ یا قدرت کی ستم ظریفی یہ رہی کہ اس نئے عالمی نقشے کی توثیق میں بھارت نے بھی اقوامِ عالم کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ہی ہاتھ سے اس دستاویز کے حق میں ووٹ ڈال دیا۔
جب نیویارک کے وقت کے مطابق ووٹنگ پینل پر سبز بتیاں روشن ہوئیں اور ایک سو چونسٹھ (164 )ممالک کے ساتھ بھارت کی حمایت کا اندراج ہوا، تو درحقیقت نئی دہلی کی جانب سے دہائیوں سے تراشا گیا نام نہاد "اٹوٹ انگ” کا فرسودہ بیانیہ اقوامِ متحدہ کے اسی ایوان میں دفن ہو گیا جہاں سے بھارت کبھی راہِ فرار اختیار کرتا رہا تھا۔ پانچ اگست دو ہزار انیس( 5, اگست 2019 ) کو بھارتی آئین کی دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے(270-45A) پر شب خون مار کر پوری وادی کو کھلی جیل میں بدلنے والے اربابِ اقتدار نے یہ خواب دیکھا تھا کہ جغرافیے کو بندوق کی نوک پر بدلا جا سکتا ہے اور تاریخ کے ماتھے سے کشمیر کا نام کھرچ کر اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر اقوامِ متحدہ کے اس نئے نقشے پر بھارتی دستخط نے یہ ثابت کر دیا کہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی فریم ورک کسی ملک کے عارضی اندرونی سیاسی جنون کے آگے سرنگوں نہیں ہوتے۔ بھارت چاہے کتنی ہی وضاحتی تاویلیں تراشے یا اسے محض سائنسی رقبے کی درستی قرار دے کر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی سعی کرے، سفارتی حقیقت کی کڑوی گولی یہ ہے کہ عالمی برادری نے مقبوضہ وادی پر بھارت کے یکطرفہ دعوؤں کو رد کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کو ایک بین الاقوامی تنازع کی عارضی لکیر کے طور پر ہی مانا ہے۔
اس ہمہ گیر پیش رفت نے دراصل پاکستان کے اس اصولی، نظریاتی اور اخلاقی موقف پر ایک بار پھر بین الاقوامی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جو وہ پچھلی پون صدی سے ہر عالمی پلیٹ فارم پر دہراتا چلا آ رہا ہے۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یوں ہی کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار نہیں دیا تھا۔ یہ کوئی روایتی جذباتی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دور اندیشانہ حقیقت تھی جس کا تعلق پاکستان کے وجود، اس کی آبی حیات، اس کے جغرافیائی استحکام اور نظریۂ پاکستان کی تکمیل سے جڑا ہوا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گلی کوچوں میں جب بھارتی فوجیوں کے بوٹوں تلے انسانی حقوق روندے جاتے ہیں، جب وادی کی ماؤں بہنوں کی چادریں تار تار کی جاتی ہیں اور جب حریت پسند نوجوانوں کے سینوں کو پیلٹ گنوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، تو اس کا درد ہر اس پاکستانی کے دل میں جاگتا ہے جس کے وجود میں شہ رگ کی طرح کشمیر دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے سفارتی تنہائی کے طعنے سہے، اقتصادی دباؤ جھیلے، اور عالمی طاقتوں کی چشم پوشی کے باوجود کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ آج جب اقوامِ عالم کے متفقہ نقشے پر کشمیر ایک متنازع اور حقِ استصواب کے طلبگار خطے کی صورت میں تابندہ نظر آتا ہے، تو یہ دراصل کشمیری شہدا کے بہتے لہو اور پاکستان کی مسلسل سفارتی استقامت کا ثمر ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہونے والی اس پیش رفت کی علامتی اہمیت سے زیادہ اس کا عملی اور قانونی اثر گہرا ہے۔ اس نقشے کی اشاعت کے بعد اب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں، نصابی کتب، بین الاقوامی اٹلسوں اور کثیر القومی اداروں کے دستاویزات میں کشمیر کو اسی تناظر میں دکھایا جائے گا جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح ہے۔ بھارت نے برسوں تک دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اندرونی قوانین کا سہارا لیا، میڈیا سنسرشپ لگائی اور متنازعہ علاقوں کو اپنے نقشوں میں زبردستی سموئے رکھا، لیکن جب بین الاقوامی فورم پر ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو وہ عالمی برادری کی اجتماعی سوچ کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا اور اس کے اپنے دستخط نے اس کے اپنے ہی بیانیے کا گلا گھونٹ دیا۔ یہ واقعہ خطے میں امن کی بحالی اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی بازیابی کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت پسندی کا دامن تھاما جائے۔ طاقت کے بل بوتے پر قوموں کی شناخت اور ان کا جغرافیہ نہیں چھینا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ کا نیا نقشہ محض لکیروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نوشتۂ دیوار ہے جس پر صاف لکھا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ زندہ ہے، اس کی متنازع حیثیت اٹل ہے اور جب تک کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، جنوبی ایشیا کا یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان اپنی شہ رگ کے دفاع اور مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت کے عہد پر آج بھی اسی طرح قائم ہے جیسا کہ اس کا تاریخی مقدر تھا
