شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 73ویں یوم پیدائش کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
صدر زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کی قیادت کبھی یک رخا نہیں رہی، بلکہ انہوں نے زندگی کے مختلف کرداروں کو نہایت خوبصورتی، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، وہ ایک بیٹی، ماں، بیوی، دوست، محب وطن اور امن کی عالمی علمبردار کے طور پر پہچانی جاتی تھیں، شہید بے نظیر بھٹو نے ہر ذمہ داری کو جرات، یقین اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیا اور ان کی سیاسی و سماجی جدوجہد آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہے بے نظیر بھٹو کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ قیادت کسی ایک دائرے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ کردار، عزم اور قربانیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔
دوسری جانب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے یومِ پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں پارٹی کارکنان اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے نظریات اور خدمات کو پاکستانی سیاست کا اہم باب قرار دیا جا رہا ہے۔
21 جون 1953 میں کراچی میں پیدا ہونے والی سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہیں، وہ جنوبی ایشیا کی بااثراور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے وطن واپسی پر بے نظیر بھٹو والد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ غیرملکی دوروں پر بھی جانے لگی تھیں ، 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، ان کے خلاف مقدمہ چلا تو بے نظیر بھٹو عدالتوں کے چکر لگاتی رہیں۔
1982 میں بے نظیر پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے دوران انہیں جلا وطنی اختیار کرنا پڑی، وطن واپسی پر انہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور وزیراعظم منتخب ہوئیں، عوام نے انہیں 1993 میں دوبارہ اقتدار بخشا18 اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو 9 سال بعد جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وطن واپس آئیں اور انہیں 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں جلسے کے بعد نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔
